کٹاس راج: ہندو برادری کا سپریم کورٹ کی کارروائی پر خیر مقدم | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کٹاس راج: ہندو برادری کا سپریم کورٹ کی کارروائی پر خیر مقدم

پاکستان میں آباد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے تاریخی کٹاس راج مندر کی صورتِ حال پر سپریم کورٹ کی طرف سے از خود کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

تاہم وہ اس بات پر چراغ پا بھی ہیں کہ متعلقہ اداروں نے ہندو تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے مناسب  کوششیں نہیں کیں۔

پاکستانی عدالتِ عالیہ کی ایک تین رکنی بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے ہیں، آج ایک مقامی سیمنٹ فیکٹری کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر کٹاس راج مندر کے خشک تالاب کو بھرے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیمنٹ فیکٹری نے زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال کیا جس کی وجہ سے قریب ہی واقع اس تاریخی مندر کا تالاب خشک ہوگیا ہے۔

عدالت نے پنجاب حکومت سے ان شرائط کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں، جس کے تحت علاقے میں سیمنٹ فیکٹری قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ عدالت نے اس فیکٹری کی وجہ سے پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی پر بھی رپورٹ طلب کی ہے۔

Pakistan Islamabad Urteil Korruptiosnprozess

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے ان شرائط کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں، جس کے تحت علاقے میں سیمنٹ فیکٹری قائم کرنے کی اجازت دی گئی

عدالتی کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہندو برادری کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ہمیں شکایت ہے چیئرمین متروکہ وقف املاک سے اور ان کے ڈیپارٹمنٹ سے جو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ دنیا بھر میں اس ا دارے میں اقلیتوں سے لوگ لیے جاتے ہیں۔ بھارت میں اس ٹرسٹ کا سربراہ ایک مسلمان ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل میں بھی اس ٹرسٹ کا سربراہ ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والا ہے لیکن ہمارے ہاں اس ادارے کا سربراہ ہمیشہ مسلمان رہا ہے۔ اس کے علاوہ کٹاس راج میں کام کرنے والے سولہ ملازمین بھی مسلمان ہیں، جنہیں صحیح معنوں میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور تاریخی مقامات سے جڑے ہوئے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔‘‘
ان کا دعویٰ تھا کہ نہ صرف مند ر کا تالاب خشک ہوگیا ہے بلکہ اس کی دیواریں بھی خستہ حالی کا شکا ر ہیں: ’’وہاں تین مندر ہیں، شیو، رام اور ہنومان۔ لیکن ان میں سے دومندر بند پڑے ہیں۔ مورتیاں بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ صرف کٹاس کی کہانی نہیں ہے۔ ملتان میں بھی ایک تاریخی مندر عدم توجہی کا شکار ہے جب کہ کرک میں ایک مندر کو طالبان نے گرایا تھا، جس کو میں نے خود تعمیر کرایا ہے۔ متروکہ املاک والوں نے اس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا اور نہ ہی کے پی حکومت نے جو ان کو پیسہ دیا تھا وہ انہوں نے اس پر خرچ کیا۔‘‘


ان کا کہنا تھاکہ اس ٹرسٹ میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہونے چاہییں کیونکہ زیادہ تر ایسے مقامات کا تعلق اقلیتی مذاہب کے لوگوں سے ہے۔
لیکن چیئرمین متروکہ املاک بورڈ صدیق الفاروق نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس مسئلہ پر اپنا موقف دیتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’رمیش کمار مجھے سے سندھ میں پرائیوٹ مندروں پر پیسے لگوانا چاہتے تھے۔ میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے وہ ناراض ہیں اور میرے خلاف ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ جہاں تک کٹاس مندر کا تعلق ہے ہم نے وہاں زائرین کے لیے جو کام کیے ہیں، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ میں نے وہاں بتیس کمرے یاتریوں کے لیے بنوائے۔ دوہزار سالہ پرانا کنواں جو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دب گیا تھا ، اس کو بحال کیا۔ لینڈ سلائیڈنگ سے اس تاریخی جگہ کو بچانے کے لیے وہاں دیواریں بنائی گئیں۔ وہاں کے تاریخی غاروں میں بحالی کا کام کیا۔ مندروں کی تزئین و آرائش کی۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا اور دوہزار کے قریب درخت لگائے۔جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ٹرسٹ نے کام نہیں کیا، میں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ وہاں جائیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کیا کیا کام وہاں ہوا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اب یہ مندر ہمارے پاس نہیں بلکہ پنجاب حکومت کے پاس ہے۔ اس کے باوجود مندر کا جو پوجا والا حصہ ہے، وہ ہم نے بہترین حالت میں رکھا ہے۔ اس کی آرکیالوجیکل سائٹ پنجاب حکومت کے پاس ہے اور وہ بھی وہاں کام کر رہے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں صدیق الفاروق نے کہا، ’’ہمارے ٹرسٹ کا یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی صنعتی سر گرمی کو روک سکے۔ کسی فیکڑی کو بند کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ماحول اور صنعتی معاملات کے حوالے سے دوسرے شعبے ہیں۔‘‘

Katasraj Mandir Tempel Punjab Pakistan

ہندو برادری کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی کے مطابق چیئرمین متروکہ وقف املاک اور ان کا ڈیپارٹمنٹ کٹاس راج مندر کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا


لیکن ہندو برادری کے کچھ سماجی رہنما اس صورتِ حال کا ذمہ دار حکومت اور ہند و منتخب نمائندوں دونوں کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان ہندو فورم کے صدر ڈاکٹر جے پال نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارے اراکین پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوتے بلکہ وہ پیسے اور کاروبار کے بل بوتے پر رکن بنتے ہیں۔ ان کو کمیونٹی کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ انہیں برادری کے مسائل پر بولنے کے لیے اپنی جماعتوں سے اجازت لینا پڑتی ہے، جو انہیں عموماﹰ نہیں ملتی۔ اس لیے ہمارے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ چاہے وہ کٹاس راج مندر کا مسئلہ ہو یا سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغواء اور پھر زبردستی تبدیلیء مذہب اور شادی، نہ حکومت ہماری سنتی ہے اور نہ ہمارے نمائندے ان مسائل پر جرات کے ساتھ بات کرتے ہیں۔‘‘
حکومت کے دو سینیئر افسران نے جن میں سے ایک لاھور اور دوسرے چکوال سے ہیں، یہ کہہ کر اس مسئلے پر ڈی ڈبلیو سے بات کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ بحث ہے۔

DW.COM

اشتہار