کورونا وائرس، پاکستان میں اسکول، مدرسے اور یونیورسٹیاں بند | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس، پاکستان میں اسکول، مدرسے اور یونیورسٹیاں بند

پاکستان میں مہلک کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے حکومت نے ایک ماہ سے زائد عرصے کے لیے ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پیر کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس جنوری تک ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے کیوں کہ ملکی ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق آئندہ بدھ سے تمام اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور دینی مدارس بند کر دیے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک مہینے میں تمام ادارے آن لائن کلاسز کا آغاز کریں گے جبکہ ملک میں پچیس دسمبر سے دس روزہ چھٹیوں کا آغاز بھی ہو گا۔ 

کئی دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں حکومت نے پابندیاں سخت کرتے ہوئے کورونا سے متاثرہ اور دیگر علاقوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیے تھے۔

حکومتی اعداد شمار کے مطابق اتوار کے روز کورونا وائرس کے ستائیس سو نئے کیسز سامنے آئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم چونتتیس تھی۔ اتوار کے روز جن افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا، ان میں سے سات اعشاریہ چار فیصد کا نتیجہ مثبت تھا جبکہ جولائی میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ابھی تک سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد تین ستتر ہزار سے زائد بنتی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تقریبا سات ہزار آٹھ سو ہے۔

حالیہ چند روز کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں کم از کم پچھہتر ڈاکٹر اور طبی عملے میں شامل افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں مزید مریضوں کی گنجائش ختم ہو گئی ہے اور تشویشناک حالت میں آنے والے مریضوں کو بھی واپس بھیجا جا رہا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کے کراچی اور لاہور جیسے گنجان آباد شہروں میں کورونا وائرس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔

 ا ا /  (ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز)