کورونا بحران: پاکستانی اقلیتوں پر کیا گزر رہی ہے؟ | معاشرہ | DW | 07.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کورونا بحران: پاکستانی اقلیتوں پر کیا گزر رہی ہے؟

پاکستان میں کورونا بحران کی وجہ سے اقلیتوں کے مذہبی اجتماعات پر پابندی ہے۔ ہندوؤں نے ہولی تہوار ماسک پہن کر گھروں میں منایا، سکھوں کا بیساکھی میلہ منسوخ ہو گیا اور مسیحی برادری ایسٹر کی تقریبات سادگی کے ساتھ منائے گی۔

اگرچہ پاکستان میں بہت سے رفاہی ادارے اقلیتی آبادی کی مدد کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن ملک بھر سے موصولہ اطلاعات سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان ساری امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تو فوکس بڑے شہر ہی ہیں، لیکن دور دراز کے علاقوں میں امداد تسلسل کے ساتھ نہیں پہنچ رہی ہے۔

مسیحی رہنما اور رواداری تحریک کے چئیرمین سیمسن سلامت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں، گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور صفائی پر مامور عملے کی بہت بڑی تعداد مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہے اور یہ خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں۔ سیمسن سلامت کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان نے ایسٹر کے موقع پر روایتی ایسٹر پیکج کا اعلان نہیں کیا لیکن ہم اپنی مدد آپ کے تحت ملک کے بارہ اضلاع میں رواداری تحریک کے زیر اہتمام خوراک تقسیم کر رہے ہیں۔ رواداری تحریک، سینٹری ورکرز کے لیے آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے جس کے تحت انہیں باقاعدگی سے ہاتھ دھونے، صابن جیب میں رکھنے اور بیماری سے بچنے کی تلقین جاری رکھے ہوئے ہے۔

پنجاب میں انسانی حقوق کے وزیر اعجاز عالم آگسٹن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ اپنے طور پر اب تک غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے مسیحی آبادیوں میں پانچ ہزار گھرانوں تک راشن پہنچا چکے ہیں۔ آگسٹن کہتے ہیں، ''پاکستان میں مسیحی برادری کی سب سے بڑی بستی یوحنا آباد میں روزانہ کی بنیاد پر دسترخوان کا اہتمام کیا جا رہا ہے، تمام گرجا گھروں کی انتظامیہ اور محکموں کو آن بورڈ لے کر گرجا گھروں کے ذریعے بھی مستحق افراد کی مدد جاری ہے۔‘‘ صوبائی وزیر کے مطابق لاہور کے کیتھولک چرچ کی جانب سے سینٹری ورکرز میں ماسک اور سینیٹائزرز بھی تقسیم  کیے گئے ہیں۔

مسیحی برادری نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر گڈ فرائیڈے اور ایسٹر اس سال سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گرجا گھروں میں چند ایک افراد عبادات کریں گے، جسے آن لائن دیکھا جا سکے گا اور اس طرح باقی افراد گھروں پر عبادت کا حصہ بنیں گے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اعجاز عالم آگسٹن نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ابھی تک مسیحی برادری کا کوئی پاکستانی شہری کورونا کا شکار نہیں ہوا ہے۔

پاکستان ہندو کونسل کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بتایا کہ کورونا کا مسئلہ بہت بڑا ہے اور اسے حکومت تنہا حل نہیں کر سکتی لہذا سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا ہے کہ ایک فلاحی ادارے کی طرف سے اقلیتوں کو راشن دینے سے انکار کی خبر آئی تھی لیکن اس ادارے سے رابطہ کیا گیا تو اس نے تردید کرنے کے علاوہ اقلیتی افراد کا خیال رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ہندوبرادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کانتا کمار کھتری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس مرتبہ تو ہولی کا تہوار روایتی طریقے سے نہیں منایا جا سکا۔ ان کے مطابق،’’ہمارے بچے باہر نکلے اور نہ ہی ہم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو اپنے گھر پر اکٹھا کر سکے جب کہ پوجا پاٹ بھی اپنے اپنے گھروں پر ہی کی تھی۔‘‘

پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار بشن سنگھ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امریکا، برطانیہ، اٹلی اور بھارت میں کئی سکھ کورونا کا شکار ہوئے ہیں لیکن ابھی تک پاکستانی سکھوں میں کوئی ایسا کیس سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چودہ سے سولہ اپریل تک ہونے والی بیساکھی کی تین روزہ بڑی تقریبات اس سال منعقد نہیں ہو رہی ہیں اور بھارت اور دیگر ملکوں سے بھی سکھ یاتری نہیں آ رہے ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کرنے والے بیس پچیس ہزار سکھ اب اپنے گھروں پر ہی سادگی کے ساتھ بیساکھی منائیں گے۔ البتہ چند ایک سکھ احتیاط کے ساتھ مرکزی گوردواروں میں مذہبی رسومات ادا کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی بابا گرونانک دیو جی ویلفئیر سوسائٹی پاکستان کے پلیٹ فارم سے سکھ برادری کے مستحق افراد کو بغیر رش کیے انفرادی طور پر راشن فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح گوردواروں کی انتظامیہ بھی سکھ برادری کے غریب افراد کی مدد کر رہی ہے۔

متروکہ وقف املاک کے ترجمان عامر ہاشمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان بھر کے گوردواروں اور مندروں میں جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے اور سکھ برادری کو کورونا سے بچانے کے لیے فیس ماسک اور سینی ٹائزرز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کل بدھ کے روز لاہور کے کتھیڈرل چرچ میں قومی کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ کا اجلاس ہو رہا ہے، کمیشن کے سربراہ محمد عاصم مخدوم کے مطابق اس اجلاس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنما کورونا کی صورتحال کے پیش نظر مستحق افراد کی مدد کے حوالے سے تبادلہ خیالات کریں گے۔

ویڈیو دیکھیے 03:22

پاکستان میں ہندوؤں کی اجتماعی شادی کی تقریب