’کوانٹیکو‘: ’بھارتی قوم پرست کو شدت پسند دکھانا مہنگا پڑ گیا‘ | فن و ثقافت | DW | 08.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’کوانٹیکو‘: ’بھارتی قوم پرست کو شدت پسند دکھانا مہنگا پڑ گیا‘

امریکی ڈرامہ سیریز ’کوانٹیکو‘ میں بھارتی قوم پرستوں کو امریکا میں پاک بھارت سمٹ کے دوران دہشت گردانہ منصوبہ بندی کرتے پیش کرنے پر بالی ووڈ کی اداکارہ پریانکا چوپڑا ہندوسوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں۔ 

امریکی ٹی وی اسٹوڈیو ’اے بی سی‘ کی پیشکش ’کوانٹیکو‘ نامی ایک کرائم ڈرامہ سیریز میں سابقہ مس ورلڈ پریانکا چوپڑا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ کوانٹیکو کی ایک قسط میں بھارتی قوم پرست کے ایک گروہ کو نیویارک کے مین ہیٹن کے علاقے میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرتے دیکھایا گیا ہے، جو بعد میں اس کارروائی کا الزام پاکستان پر لگانے کی سازش کرتے ہیں۔ اس قسط کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر اس ڈرامہ سیریز کی بھارتی اداکارہ کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

روہنگیا مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے، پری یانکا چوپڑا

ملالہ ایک ایسی طاقت جس کا انکار ممکن نہیں، پریانکا چوپڑا

ٹوئٹر پر کچھ صارفین نے اس پینتیس سالہ اداکارہ کی حب الوطنی پر سوالات اٹھائے تو بعض نے اداکارہ کے کام  خصوصاﹰ ڈرامہ سیریز ’کوانٹیکو‘ کو ہندوستان میں نشر کیے جانے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ 

یکم جون کو نشر  ہونے والی اس قسط میں ڈرامائی طور پر ایک ’ایم آئی ٹی‘ پروفیسر کو نیویارک میں منعقدہ پاک بھارت اجلاس پر حملے کی سازش میں ملوث دکھایا گیا تھا۔ امریکا میں مقیم ایک بھارتی سکالر نے ان مناظر کو ہندو مذہب کے خلاف من گھڑت کہانی قرار دیتے ہوئے پریانکا پر ہندو مذہب اور بھارت کو دھوکا دینے کا الزام عائد کیا۔

بعد ازاں امریکی ٹی وی اسٹوڈیو ’اے بی سی‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا کہ ’پریانکا چوپڑا پر تنقید نامناسب ہے کیونکہ وہ نہ تو ڈرامے کی لکھاری ہیں اور نہ ہی ہدایت کار۔‘

’پدماوت‘ کے بعد کنگنا رناؤت کی فلم بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر

گزشتہ چند سالوں سے بھارت میں فلموں اور مرکزی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی قوم پرستوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پدماوت کے نام سے بنائی جانے والی ہندی فلم کو کئی گروپوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 2016ء میں ایک کمپنی پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ اپنی مصنوعات کی تشہیری مہموں سے اداکار عامر خان کو نکال دیں کیونکہ عامر خان نے ہندوستان میں بڑھتے عدم برداشت پر اظہار خیال کیا تھا۔

ع آ / ع ب (رائٹرز)

DW.COM