کشمیر کے مسئلے پر بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے، جوہر سلیم | حالات حاضرہ | DW | 12.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر کے مسئلے پر بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے، جوہر سلیم

پاکستان اور بھارت دونوں ہی جموں و کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتے ہیں اور کشمیر ان دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے موضوع پر ڈی ڈبلیو نے برلن میں متعین پاکستانی سفیر جوہر سلیم سے بات چیت کی۔

ڈی ڈبلیو: پاکستان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نسل کشی کی بات کر رہا ہے۔ کیا یہ بہت ہی سخت موقف نہیں ہے؟

جوہر سلیم:  وقت کے ساتھ ساتھ وہاں کا المیہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارا یہ تاثر ہے۔ میں روزانہ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ دیکھتا لور پڑھتا ہوں اور پانچ اگست کے بعد کشمیر کے حوالے سے ہر رپورٹ نے مجھے رنجیدہ کیا ہے اور میرے خیال میں دیگر افراد کو بھی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں بھی کشمیر کی صورتحال بیان کی جا رہی ہے۔

کشمیر کی صورتحال کے تین مختلف پہلو ہیں۔ پہلا انسانی حقوق کی پامالیاں ہیں، جن کا ذکر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ جنیوا میں اقوام متحدہ کے کمشنر بھی کیا ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آٹھ ملین لوگوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔ وہاں پر کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کا مطلب ہے کہ اگر آپ اپنے گھر سے باہر نکلیں تو آپ کو گولی بھی ماری جا سکتی ہے۔ تمام تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔ کیا آپ کبھی برلن میں یا کسی اور جگہ اس طرح کی صورتحال  کا تصور کر سکتے ہیں۔

اس مسئلے کا دوسرا پہلوسیاسی ہے اور وہ یہ کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ دو ممالک کے درمیان ایک متنازعہ خطہ۔ اس کے تیسرے پہلو کا تعلق سلامتی سے ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے گنجان آباد خطہ ہے۔ اور یہ دونوں ملک جوہری طاقتیں ہیں۔ اس طرح کی صورتحال دو جوری طاقتوں کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ کوئی غلط فہمی بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈی ڈبلیو: بھارتی حکومت تو دعویٰ کر رہی ہے کہ کشمیر کے حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں۔ کیا وہ جھوٹ بول رہی ہے؟

جوہر سلیم : کچھ دن قبل میں بھارتی اخبارات میں چھپنے والے اداریے پڑھ رہا تھا اور ان میں صورتحال حکومتی دعووں سے بالکل مختلف بیان کی گئی ہے۔

ڈی ڈبلیو:شملہ معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت اس مسئلے کو باہمی انداز میں حل کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ تو پھر اسے بین الاقومی تنازعہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا شملہ معاہدہ دم توڑ چکا ہے؟

جوہر سلیم: نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ بھارت ہے، جو شملہ معاہدے کونقصان پہنچا رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ یہ معاہدہ پڑھا ہے اور اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔ بھارت نے ایسا کر دیا۔ شملہ معاہدے کی رو سے فریقین کو مل کر اس موضوع پر بات کرنا ہو گی لیکن بھارت اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہا۔

ڈی ڈبلیو: اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟

بھارت کو چاہیے کہ سب سے پہلے تو وہ کشمیر میں اپنی تمام تر کارروائیاں روکے کیونکہ ان اقدامات نے خطے کو بہت ہی خطرناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ کرفیو اٹھانا چاہیے، مواصلاتی رابطے بحال کرنے چاہییں۔ مقامی کشمیریوں سے بات کرنی چاہیے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت یہ تمام تر اقدامات کرتا ہے تو ہم بھارت میں اپنا سفیر دوبارہ سے بھیجنے اور بات چیت دوبارہ سے شروع کرنے پر راضی ہیں۔ اس کے بعد فریقین کو ساتھ بیٹھ کر بامقصد سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہییں۔ یورپ اس کی ایک مثال ہے۔ تمام مسئلے بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے کوشش سنجیدہ اور با معنی ہونا لازمی ہے۔

اس انٹرویو میں برلن میں تعینات بھارتی سفیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم وہ اپنی مصروفیات کے باعث وقت نہیں نکال پائیں۔

 جوہری سلیم سے یہ انٹرویو ڈی ڈبیلو کی جانب نے بریش بینرجی نے کیا۔

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات