کشمیر میں چار مبینہ علیحدگی پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 10.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کشمیر میں چار مبینہ علیحدگی پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں چار مبینہ علیحدگی پسند ہلاک اور ایک بھارتی فوجی مارا گیا ہے۔ تین علیحدگی پسندوں کے جنازے میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے حق میں اور بھارت سے آزادی کے نعرے بھی لگائے۔

بھارتی پولیس کے مطابق یہ ہلاکتیں فائرنگ کے تین مخلتف واقعات میں ہوئی ہیں۔ جاری ہونے والے حکومتی بیان کے مطابق گزشتہ شب تین مبینہ علیحدگی پسند جنگلاتی گاؤں کیلر کے علاقے میں اس وقت  ہلاک ہوئے، جب سکیورٹی فورسز نے ان کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ منگل کے روز ان تین علیحدگی پسندوں کے جنارے میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کرتے ہوئے بھارت مخالف نعرے بلند کیے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق مظاہرین ’گو انڈیا، گو بیک‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہلاک ہونے والے علیحدگی پسندوں اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ اس سے قبل پیر کے روز بھارتی فورسز نے ہندوارا کے علاقے میں ایک اہم علیحدگی پسند لیڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

موبائل فون کے باعث سرزنش، بھارتی فوجی نے میجر کو قتل کر دیا

بھارتی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا، ’’علاقے میں جیش محمد کے چیف آپریٹر عسکریت پسند کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘‘ بھارتی پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے متعدد حملوں کا ماسٹر مائنڈ یہی علیحدگی پسند تھا۔

بھارتی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ان کا ایک فوجی اس وقت مارا گیا، جب بڈگام کے علاقے میں گشت کرتے ہوئے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی۔ بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں نئی دہلی حکومت کے خلاف جذبات انتہائی گہرے ہو چکے ہیں۔ علاقے کے زیادہ تر لوگ علیحدگی پسندوں کا ساتھ دیتے ہیں جبکہ حالیہ کچھ عرصے سے حکومت مخالف مظاہرے بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی لڑائی اور حکومتی فوج کی کارروائیوں میں اب تک تقریبا ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں بھاری تعداد میں فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔

DW.COM

اشتہار