’کسی اسمگلر کو جانتے ہو؟ مجھے یونان سے نکلنا ہے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 12.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’کسی اسمگلر کو جانتے ہو؟ مجھے یونان سے نکلنا ہے‘

یورپی ممالک کی جانب سے صرف شامی، عراقی اور افغانی شہریوں کو آنے کی اجازت دینے کے باعث یونان میں پھنسے ہزاروں تارکین وطن کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ رضاکارانہ طور پر واپس لوٹ جائیں، یا یونان میں پناہ کی درخواست دیں۔

یمن سے تعلق رکھنے والا فارس مغربی یورپ جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، کانگو کا شہری گائلو پیرس پہنچ کر موسیقار بننے کا خواہش مند ہے اور فلسطین سے تعلق رکھنے والا محمد سفر کے دوران جدا ہو جانے والے بیوی بچوں کو ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ اور ہزاروں دیگر تارکین وطن فی الحال یونان میں پھنسے ہوئے ہیں اور مغربی یورپ کی طرف سفر نہیں کر سکتے کیونکہ مقدونیہ اور بلقان ریاستیں صرف شامی، عراقی اور افغان شہریوں کو اپنی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہیں۔

جمہوریہ کانگو سے تعلق رکھنے والے سینتیس سالہ گائلو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے یونان سے نکلنا ہے، آپ کسی انسانوں کے اسمگلر کو جانتے ہیں؟‘‘ وہ اپنے جنگ زدہ ملک سے بھاگ کر بحیرہ ایجیئن میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر یونان تک تو پہنچ چکا ہے لیکن پیرس پہنچنے کی خواہش اب بھی ادھوری ہے۔ گائلو اب یونان سے بھاگ نکلنے کو بے تاب ہے۔

گائلو کا مزید کہنا تھا، ’’میں یہاں سے نکلنے کے لیے کچھ بھی کروں گا، میں ایسی جگہ جانا چاہتا ہوں جہاں امن ہو، میں اپنا کاروبار شروع کر سکوں، میں گانا گا سکوں۔‘‘ یمن سے تعلق رکھنے والا اکیس سالہ فارس کہتا ہے، ’’یمن میں تو سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، وہاں تو ہر روز لوگ مر رہے ہیں، میں یورپ پہنچ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ لیکن یمنی باشندوں کو بھی یونان سے آگے جانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

رواں ہفتے کے دوران دو ہزار کے قریب پناہ گزینوں نے یونان سے مقدونیہ جانے کی کوشش کی لیکن انہیں یونانی پولیس نے سرحد پر روک کر واپس ایتھنز پہنچا دیا جہاں انہیں مہاجرین کے لیے بنائے گئے ایک عارضی مرکز میں رہنا پڑ رہا ہے۔ اس رہاش گاہ میں صرف تین سو لوگوں کو عارضی رہائش فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔

فلسطینی شہری محمد بھی ان تارکین وطن میں سے ایک ہے۔ اس کی بیوی اور کم سن بچہ یونان سے مقدونیہ داخل ہونے کی کوشش کے دوران اس سے بچھڑ گئے تھے اور اسے ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ عارضی رہائش گاہ کے بارے میں بتاتے ہوئے محمد کا کہنا تھا، ’’یہاں پر کچھ بھی نہیں ہے، بستر اور گدا تک نہیں، ہمیں ٹھنڈے فرش پر سونا پڑتا ہے۔ گرم پانی بھی دستیاب نہیں۔‘‘

یونان خود گزشتہ کئی برسوں سے معاشی بحران کا شکار ہے اور اتنی بڑی تعداد میں آنے والے تارکین وطن کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنا اس کے لیے تقریباﹰ ناممکن ہے۔ یونانی وزیر برائے مہاجرین یوانِس موزالاس کا کہتے ہیں، ’’شناختی دستاویزات کے بغیر غیر قانونی طور پر یونان پہنچے والے تارکین وطن کو یا تو یونان ہی میں پناہ کی درخواست دینا ہو گی، یا پھر رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس لوٹنا ہو گا۔‘‘

یونان کے ریاستی خبر رساں ادارے اے این اے کے مطابق اکثر مہاجرین واپس یونانی جزیروں کو لوٹ رہے ہیں تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح خود کو شامی، عراقی یا افغانی شہری کے طور پر رجسٹر کروا سکیں۔ لیکن لیسبوس کے رجسٹریشن سینٹر میں موجود اہلکاروں کو چکمہ دینا آسان نہیں ہے۔

Griechenland Flüchtlinge an der Grenze zu Mazedonien

یونانی پولیس اہلکار مہاجرین کو مقدونیہ جانے سے روک رہے ہیں۔

انسانوں کے اسمگلروں کی تلاش

اکثر تارکین وطن یونان سے آگے جانے کے لیے انسانوں کے اسمگلروں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں جو انہیں بھاری رقم کے عوض مغربی یورپ پہنچاتے ہیں۔

ایسے معاملات سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’وکٹوریا اسکوائر کے ارد گرد موجود پاکستانیوں اور عربوں کی دوکانوں پر ایسے سودے طے پاتے ہیں۔ وہاں چالیس سے زائد ایسے آپریٹر موجود ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اور ایتھنز میں کوئی بھی عربی بولنے والا شخص ان سے رابطہ کروا سکتا ہے۔ پچاس پناہ گزینوں سے پیسے لینے کے بعد وہ باآسانی ایک کوچ کرائے پر لے لیتے ہیں۔‘‘

مقدونیہ اور یونان کے مابین سرحد کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں کے ذریعے بند کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یونان سے وسطی یورپ پہنچنے کا ایک متبادل راستہ البانیہ سے ہو کر گرزتا ہے لیکن یہ راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ گائلو کا کہنا ہے، ’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ بہت خطرناک ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی ہے۔ کئی لوگوں نے البانیہ کے راستے وسطی یورپ پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘

اشتہار