کبڈی ورلڈ کپ: روایتی حریف پاکستان اور بھارت فائنل میں | کھیل | DW | 16.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

کبڈی ورلڈ کپ: روایتی حریف پاکستان اور بھارت فائنل میں

بھارتی وزیر کھیل کی طرف سے یہ اعلان منظر عام پر آیا کہ بھارتی کبڈی ٹیم اسپورٹس منسٹری کے این او سی کے بغیر ہی پاکستان گئی تھی۔ اس سے ایک تنازعہ نے جنم لیا تھا جس کے بعد سے بھارتی کھلاڑی سخت دباؤ میں کھیلتے نظر آئے۔

پاکستان اوردفاعی چمپیئن بھارت کبڈی ورلڈ کپ 2020ء کے فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان فائنل آج اتوار کی شب پنجاب اسٹڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

ہفتے کو سرحد پار سے آخری موقعے پر سیمی فائنل کھیلنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی کبڈی ٹیم نے آسٹریلیا کو 32-42 کے اسکور سے شکست دی۔

نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں بھارت کی جانب سے ارش چولہ اور گرو لعل نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور اپنی ٹیم کو ساتویں بار فائنل میں پہنچادیا۔

ہزاروں تماشائیوں کے سامنے پاکستانی ٹیم نے دوسرے سیمی فائنل میں ایران کو 30 کے مقابلے میں 52 پوائنٹس سے شکست دی۔ بھارت کو ماضی میں ہوئے تمام چھ ورلڈ کپ کبڈی مقابلوں میں چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ پاکستانی ٹیم نے پانچویں بار فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:55

کبڈی ٹورنامنٹ فائنل: پاکستانی ٹیم کی بھارت کے خلاف جیت

پاکستانی کپتان محمد عرفان نے میچ کے بعد ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے روایتی حریف کے خلاف فائنل میں سخت مقابلے کی پیشگوئی کی اور کہا بھارت ایک نوجوان مگر خطرناک ٹیم ہے اور ہمیں جیتنے کے لیے غیر معمولی کھیل پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا وہ چاروں فائنل ہارنے والی ٹیم میں شامل تھے لیکن اب ہوم گراؤنڈ پر تاریخ بدلنے کا وقت آگیا ہے اور وہ ورلڈ چمپیئن بننے کے لیے پر امید ہیں۔

پاکستان پہلی بار عالمی کپ کبڈی ٹورنامنٹ کی میزبانی کررہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور گجرات میں ہونے والے مقابلوں میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ جرمنی، انگلینڈ، آسٹریلیا، ایران، آذربائیجان، کینیڈا اور سیرالیون کی کبڈی ٹیمیں اس ورلڈ کپ میں شریک ہوئیں۔

بھارتی ٹیم داخلی تنازعے کا شکار

ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی وزیر کھیل کائرن ریجی جو کی طرف سے یہ اعلان منظر عام پر آیا کہ بھارتی کبڈی ٹیم اسپورٹس منسٹری کے این او سی کے بغیر ہی پاکستان گئی تھی۔ اس بیان سے ایک تنازعہ نے جنم لیا تھا جس کے بعد سے بھارتی کھلاڑی سخت دباؤ میں کھیلتے نظر آئے۔ تاہم پاکستان کبڈی فیڈریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قضیہ اب ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر چوہدری شافع حسین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہفتے کو ہونے والے رابطے کے بعد یہ تنازعہ اب ختم ہو چکا ہے۔ شافع حسین نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا تو بھارتی کبڈی ٹیم سیمی فائنل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر چکی تھی۔

Kabaddi World Cup Muhammad Irfan und Nannhi

کبڈی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم ملے گی جس کا فیصلہ آج اتوار 16 فروری کی شب لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں ہو گا۔

باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے اس ورلڈ کپ کو سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک جی کے 550ویں جنم دن سے منسوب کرنے کے اعلان کے بعد اس ضمن میں بھارتی پنجاب کے وزیر کھیل رانا گرمیت سنگھ نے اہم کردار ادا کیا۔

بھارت سے ورلڈ کپ کبڈی کی کوریج کے لیے آئے ہوئے ایک صحافی ستپال ماہی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بھارت میں متوازی کبڈی فیڈریشن کا بھارتی اولمپک کمیٹی سے الحاق کا تنازعہ ہے اس لیے اس معاملے میں جھوٹی سیاست چمکانے کی کوشش کی گئی۔

بھارتی ٹیم کے منیجر دیوندر سنگھ باجودہ نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑی اس تنازعے کے بعد دباؤ میں نہیں تھے کیونکہ وہ صرف کبڈی کھیلنے پاکستان آئے تھے اور جس طرح یہاں ان کی پزیرائی ہوئی اس سے دونوں ممالک کا سیاسی درجہ حرارت بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ دریں اثنا بھارتی ٹیم کو اس تنازعہ کی وجہ سے ایک نقصان یہ ہوا ہے ان کے دو سرکردہ کھلاڑی خوشی اور دِلا پاکستان آنے سے رہ گئے۔ دونوں کا شمار دنیا کے بہترین ریڈرز اور اسٹاپرز میں کیا جاتا ہے۔

کبڈی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم ملے گی جس کا فیصلہ آج اتوار 16 فروری کی شب لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں ہو گا۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM