ڈمینشیا ہو جائے، تو ورزش کام نہیں آتی | صحت | DW | 17.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

ڈمینشیا ہو جائے، تو ورزش کام نہیں آتی

ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسمانی ورزش ڈمینشیا سے بچانے میں سازگار ہو سکتی ہے، تاہم یہ مرض لاحق ہو جائے، تو ابتری کی جانب بڑھتی دماغی صحت پر ورزش کارگر نہیں رہتی۔

جمعرات کے روز پانچ سو افراد کے مطالعے پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ڈمینیشا کا مرض لاحق ہونے کے بعد گرتی ذہنی صحت کو ورزش کی مدد سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم یا درمیانی سطح کی ڈمینشیا میں ورزش سے جسمانی صحت پر تو بہتر اثرات دیکھے گئے ہیں، تاہم گرتی ذہنی صحت میں فرق نوٹ نہیں کیا گیا ہے۔

نارمل بلڈ شوگر لیول بھی دماغ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے

’الزائمر کی تشخیص فقط بلڈ ٹیسٹ سے ممکن‘

پارکنسن: جب تک تشخیص ہوتی ہے، بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے

الزائمر کے شکار افراد کی مدد شاعری سے

بی ایم جے طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں محققین کے اس نئے انکشاف کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ  الزائمر اور ڈمیشنیا کی دیگر اقسام لاحق ہونے کی راہ میں جسمانی ورزش نہایت مثبت کردار ادا کرتی ہے، تاہم یہ بات اب تک واضح نہیں تھی کہ آیا یہ مرض لاحق ہو جانے کے بعد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ہوتی کمی کو آیا ورزش کے ذریعے سست بنایا جا سکتا ہے۔

اس تازہ تحقیق میں انگلینڈ میں ان 494 افراد کا مطالعہ کیا گیا، جن میں ڈمینشیا کے مرض کی تشخیص ہو چکی تھی، ان میں سے 329 کو باقاعدہ ورزش کے ایک پروگرام سے جوڑا گیا۔ ہفتے میں دو دفعہ ان افراد کو ساٹھ سے نوے منٹ تک جسمانی ورزش کرائی گئی اور یہ تسلسل چار ماہ تک برقرار رکھا گیا۔ اس کے علاوہ یہ مریض گھر پر بھی ایک گھنٹہ فی ہفتہ ورزش کرتے تھے۔ مطالعے میں شامل کیے جانے والے ان مریضوں کی اوسط عمر 77 برس تھی۔ پھر ورزش پروگرام میں شامل ان مریضوں کو چھ اور آٹھ ماہ بعد بھی جانچا گیا۔

محققین کے مطابق ذہنی فکری سطح میں گراوٹ ورزش کرنے اور نہ کرنے والے مریضوں میں برابر تھی۔

ویڈیو دیکھیے 02:52

کیا الزائمر کا علاج ممکن ہے؟

کنگز کالج لندن کے ادارہ برائے نفسیات سے وابستہ بریڈون سٹب نے اس مطالعاتی رپورٹ کو الزائمر کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ’انتہائی اہم‘ قرار دیا ہے۔

اس مطالعاتی رپورٹ پر اپنے تبصرے میں سٹب نے کہا، ’’گو کہ چھوٹے مطالعاتی جائزے بتاتے رہے ہیں کہ ورزش سے ذہنی صلاحت میں گراوٹ کی رفتار سست ہوتی ہے، تاہم یہ بڑی اور مربوط رپورٹ اس سلسلے میں اب تک پوچھے گئے سوالات کا ایک واضح جواب ہے۔ اس سے الزائمر کے مریضوں پر ورزش کے اثرات کا علم ہو گیا ہے۔‘‘

ع ت / ع الف

DW.COM

Audios and videos on the topic