چینی قونصل خانے پر حملہ، بلوچ لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کر لی | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چینی قونصل خانے پر حملہ، بلوچ لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے پولیس کے مطابق تینوں حملہ آور بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل تھے، جب کہ کئی حلقے اس دعوے کو مسترد کر رہے ہیں۔

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانہ پر جمعے کی صبح تین مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ سیکورٹی پر مامور اہلکاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور باہر ہی مارا گیا تھا جبکہ اس دوران دو پولیس اہلکاربھی ہلاک ہوئے۔ دو حملہ آوروں نے قونصل خانے کے ویزا سکیشن میں داخل ہو کر فائرنگ کی، جس سے وہاں موجود باپ اور بیٹا مارے گئے۔ یہ دونوں شہری ویزے کے حصول کے لئے کوئٹہ سے کراچی آئے تھے۔

اس کے بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور اطراف میں واقع بلند عمارتوں سے دونوں حملہ آوروں کو مار گرایا۔ حملہ آوروں کے قبضے سے خودکار ہتھار اور آتش گیر مادے کے علاوہ کھانے کے لئے بُھنے ہوئے چنے اور ابتدائی طبی امداد کے لئے ادویات بھی برآمد ہوئی ہیں۔ سیکورٹی اداروں کے مطابق حملہ آوروں کا مقصد عملے کو یرغمال بنانا تھا، جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

حملے کے کچھ دیر بعد ہی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کر دیں تھیں تاہم جب ڈوئچے ویلے نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام سے اس حوالے سے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا، ’’ان کے پاس بھی اطلاع ہے کہ سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کی گئی ہے تاہم پولیس دہشت گردوں کی شناخت کا عمل پورا کرے گی اس کے بعد ہی وہ کچھ کہہ سکیں گے۔‘‘ ڈی ڈبلیو کے ذرائع کے مطابق پولیس کے پاس موجود کریمنل ویریفیکیشن سسٹم کے ذریعے ایک حملہ آور کو عبدالرازق کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، جو بلوچستان کے علاقے خاران سے تعلق رکھتا ہے اور حکومت بلوچستان کا ملازم ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق کراچی میں رواں ماہ ہونے والے دونوں حملوں میں مذہبی انتہاپسندوں کی بجائے کالعدم قوم پرست تنظیمیں ملوث پائی گئی ہیں۔ قائد آباد بم دھماکے میں بھی ایک کالعدم تنظیم سامنے آئی تھی جبکہ آج کے حملے کی بھی بی ایل اے نے خود ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

لیفٹینٹ جنرل (ریٹائر) امجد شعیب نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کے نام بلوچستان سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔‘‘  دوسری طرف کچھ حلقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ حملہ آوروں سے متعلق کیے جانے والے یہ حکومتی دعوے کہ ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے، درست نہیں ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق اس طرح حکومتِ پاکستان لاپتہ افراد کے ایشو کو دبانا چاہتی ہے۔   

 چینی قونصل خانے پر چھ برسوں میں اس دوسرے حملے کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلٰی سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹارگیٹیڈ آپریشن میں تیزی لانے کے علاوہ سکیورٹی انتظامات بہتر کرنےکی ہدایت کی ہے۔

سابق مشیر داخلہ اور سیکورٹی امور کے ماہر حارث نواز کہتے ہیں کہ پاک چین دوستی کئی ممالک کو بالکل پسند نہیں ہے، ’’چینی قونصل خانے پر حملہ دراصل سی پیک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کراچی میں منعقد ہونے والی اسلحے کی بین الاقوامی نمائش بھی کئی ممالک کو پسند نہیں ہے لہذا اسے ناکام بنانے کے لیے بھی اس طرح کے حملے کیے جا رہے ہیں تا کہ دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر سے کراچی کو بدنام کیا جا سکے، ’’مگر ماضی کے برعکس اس بار مذہبی انتہاپسندوں کی بجائے قوم پرستوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘