چوالیس فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار، حل کس کے پاس؟ | صحت | DW | 31.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

چوالیس فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار، حل کس کے پاس؟

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور ان ممالک میں سے ایک ہے، جہاں آبادی میں اضافے کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ لیکن اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ تقریباً ہر دوسرا بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔

آبادی اور صحت سے متعلقہ امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں بہت زیادہ شرح پیدائش، غربت، غذائیت کے مسئلے، خواندگی کی غیر تسلی بخش شرح اور بہت زیادہ مہنگائی سمیت کئی امور ایسے ہیں، جن کے فوری حل تلاش کیے جانا چاہییں۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ سب عوامل مل کر پاکستان کی نئی نسل کو مسلسل غیر صحت مند بناتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی شرح پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔

پاکستان کے قومی ادارہ صحت اور برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس چھٹے سب سے بڑے ملک میں چوالیس فیصد بچوں کو غذائیت کی کمی کا سامنا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے پاکستانی بچوں کی مجموعی تعداد کروڑوں میں بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر صرف چھ ماہ سے لے کر تئیس ماہ تک کی عمر کی بچوں کی مثال لی جائے، تو ان میں غذائیت کی کمی کی شرح پچاسی فیصد ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس عمر کے شیر خوار بچوں میں سے صرف پندرہ فیصد بچوں کو کافی غذائیت والی خوراک دستیاب ہوتی ہے۔

خوراک اور غذائیت میں فرق

پاکستان کی بیس کروڑ سے زائد کی آبادی میں غربت یا بہت زیادہ غربت کے شکار شہریوں کی شرح بھی کافی زیادہ ہے۔ کئی ملین گھرانوں میں بچے بھی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے میں خاندان کے سربراہ کی مدد کر سکیں۔ جن خاندانوں میں پیٹ بھر کر تین وقت کے کھانے کی دستیابی بھی مسئلہ ہو، وہاں کسی کو کھانے کی غذائیت پر توجہ دینے کی ضرورت کہاں محسوس ہو سکتی ہے؟

مناسب غذا ہے کیا؟

مناسب غذا کس کو کہتے ہیں، اس بارے میں اسلام آباد میں اپنا نجی کلینک چلانے والے نیوٹریشنسٹ یا ماہر غذائیات ڈاکٹر احسان اللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انسانی صحت کے لیے ایسی غذا ضروری ہوتی ہے، جو متوازن ہو اور جسم کو ایسی غذائیت دے، جس کی مدد سے مدافعتی نظام مضبوط ہو اور ممکنہ بیماریوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انسانی جسم میں پٹھوں، خون کی رگوں، ریشوں اور ہڈیوں، سب کی اپنی اپنی غذائی ضروریات ہوتی ہیں۔ ان کی نشو و نما کے لیے صرف توانائی یا کیلوریز ہی نہیں بلکہ کیلشیم، پروٹینز، نشاستہ، معدنیات اور امراض سے بچاؤ کے لیے وٹامنز وغیرہ سب درکار ہوتے ہیں۔

پاکستان: خوراک کی کثرت کے باوجود بچے غذائی قلت کا شکار

ڈاکٹر احسان اللہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’غذائیت کی کمی چھوٹے بچوں کی غیر تسلی بخش نشو و نما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین کو خوراک اور غذائیت میں فرق کا علم ہی نہیں۔ جس کے پاس خوراک ہی کافی نہیں، وہ غذائیت کے بارے میں کیسے سوچے گا؟ اور جس کے پاس کافی خوراک ہے، وہ نہیں جانتا کہ صحت مند کھانے کا مطلب زیادہ کھانا نہیں ہوتا بلکہ بہتر غذائیت والی خوراک ہوتا ہے۔ عام والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی بہتر نشو ونما کے لیے بس پیٹ بھر کر کھانا لازمی ہوتا ہے، حالانکہ بہتر صحت کے لیے خوراک سے زیادہ اہم اس کی غذائیت ہوتی ہے۔ غذائیت کی کمی کے شکار پاکستانی بچوں میں وہ بھی ہوتے ہیں، جو کم خوراکی کا شکار ہوتے ہیں اور وہ بھی جو خوش خوراک تو ہوتے ہیں لیکن جنہیں کم غذائیت کا سامنا پھر بھی رہتا ہے۔ کم غذائیت کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے خون میں نشاستے، نمکیات اور کولیسٹرول کی سطح غیرمتوازن ہو جاتی ہے۔‘‘

سرکاری مالی وسائل ناکافی

پاکستانی بچوں میں کم غذائیت کا مسئلہ آج تک ختم کیوں نہیں ہوا، اس بارے میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن ارشد محمود کہتے ہیں کہ انیس سو نوے میں بھی اس حوالے صورت حال کافی خراب تھی۔ پھر دو ہزار گیارہ میں ایک نیشنل نیوٹریشن سروے کرایا گیا تو ثابت ہوا تھا کہ قریب پینتالیس فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار تھے۔ اب گزشتہ چند برسوں سے صوبائی حکومتوں نے ایک کثیرالجہتی غذائی حکمت عملی اپنائی تو ہے لیکن وہ بھی ناکافی ہے۔ ارشد محمود کے مطابق اس پالیسی پر بھی ترجیحی بنیادوں پر کام نہیں کیا جا رہا۔ سرکاری بجٹ میں فنڈز کی کمی اتنی ہے کہ جو مالی وسائل دستیاب ہوتے ہیں، وہ بھی زیادہ تر ڈونر فنڈنگ کے تحت ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

ارشد محمود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان میں بچوں اور بڑوں دونوں میں غذائیت کی کمی کے کئی محرکات ہیں۔ ان میں محرومی، غربت، ناخواندگی، سماجی رویے اور کم عمری کی شادیاں سبھی کچھ شامل ہے۔ ایک طرف عام لوگوں کو خوراک اور غذائیت کے فرق تک کا علم نہیں تو دوسری طرف کئی علاقوں، خاص کر خیبر پختونخوا اور سندھ جیسے صوبوں میں بچیوں کی شادیاں کم عمری میں ہی کر دی جاتی ہیں۔ تو جو بچیاں خود کم خوراکی یا کم غذائیت کا شکار رہی ہوں یا شادی کے بعد بھی ہوں، وہ صحت مند بچوں کو کیسے جنم دے سکتی ہیں؟‘‘

آئندہ نسلوں کی صحت مندی کا راز

پاکستانی معاشرہ اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے صحت مند ہونے کو یقینی کیسے بنا سکتا ہے؟ اس بارے میں راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کی امراض زچہ و بچہ کے شعبے کی سینئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر فرحت ارشد نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا، ’’بچوں کے غذائیت سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے پہلے خواتین پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ اچھی اور صحت مند خوراک سے کسی بھی خاتون میں بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے حمل اور زچگی کے مراحل صحت مندی سے گزرتے ہیں۔ ماں صحت مند ہو گی تو بچہ بھی صحت مند ہو گا۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی صحت پر توجہ کم دی جاتی ہے، حالانکہ اگلی نسل کی صحت مندی میں ماں کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر فرحت ارشد کے مطابق پاکستانی عورتوں میں یہ بہت غلط رجحان بھی زور پکڑ چکا ہے کہ ان میں سے بہت سی اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں۔ انہوں نے بتایا، ’’نوجوان مائیں ڈبے کے یا بازاری دودھ پر انحصار کرنے لگی ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی ماں شروع کے کم از کم چھ ماہ تک بچے کو اپنا دودھ پلائے تو شیر خوار بچہ غذائیت کی کمی کا شکار بھی بالکل نہیں ہو گا اور کئی بیماریوں کے خلاف اس کا جسمانی مدافعتی نظام بھی بہت بہتر ہو گا۔‘‘

راولپنڈی کی اس سینئر گائناکالوجسٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی حاملہ عورت کے لیے صحت مند خوراک انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں بہت سی نوجوان حاملہ خواتین کو خون کی کمی کا سامنا بھی رہتا ہے۔ اس میں غربت کا بھی بڑا عمل دخل ہے، ’’پاکستانی صوبہ سندھ میں تھر کے علاقے کو ہی دیکھ لیں۔ وہاں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ گزشتہ برس تھر میں تقریباً پانچ سو بچے اپنی پیدائش سے کچھ پہلے یا فوری بعد اس لیے موت کے منہ میں چلے گئے کہ انہیں غذائیت کی شدید کمی کا سامنا تھا۔‘‘