چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ، جرمنی نے پاکستان کو شکست دے دی | کھیل | DW | 02.07.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ، جرمنی نے پاکستان کو شکست دے دی

ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں جاری چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ میں جمعے کے روز جرمنی نے پاکستان کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے دی جبکہ انگلینڈ اور ہالینڈ کا مقابلہ دو دو گول سے برابر رہا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی سہیل عباس

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی سہیل عباس

پاکستان کی جانب سے کھیل کا آغاز انتہائی جارحانہ انداز میں کیا گیا اور کھیل کے پہلے ہی منٹ میں شکیل عباسی نے جرمن دفاعی کھلاڑیوں کو مفلوج کرتے ہوئے محمد زبیر کو پاس دیا، جنہوں نے گیند گول میں پہنچا دی۔ اس گول کے بعد پاکستانی ٹیم دفاعی کھیل میں مگن ہو گئی۔ دوسری جانب جرمن کھلاڑیوں نے آہستہ آہستہ پاکستانی مڈ فیلڈ کو توڑ دیا اور پہلے ہاف کے اختتام سے چند لمحے قبل پنیلٹی کارنر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جرمن ٹیم نے اس پہلے پنیلٹی کارنر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گول کر کے پاکستانی برتری کا خاتمہ کر دیا۔ جرمنی کی جانب سے یان مارکو مونٹاگ نے گیند گول میں پہنچائی۔

Hockey Team Deutschland

جرمنی نے یہ میچ ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیتا

دوسرے ہاف میں جرمن ٹیم مزید ڈٹ کر کھیلی اور پاکستانی دفاعی کھلاڑیوں کو مسلسل دباؤ کا شکار رکھا۔ دوسرے ہاف میں گیند زیادہ تر جرمن ٹیم کے پاس رہی۔

جرمنی کی جانب سے موریٹس فُرزٹے نے ایک خوبصورت گول کر کے اپنی ٹیم کی فتح کا راستہ ہموار کر دیا۔ جیت کے بعد اپنے ایک انٹرویو نے جرمن کوچ نے ٹیم کے کھیل پر تاہم ناخوشی کا اظہار کیا۔’’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کھیل پسند آیا۔ اس کھیل پر کوئی بھی تعریف کا مستحق نہیں ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے مینیجر خواجہ جنید نے بھی اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں ناکام رہی۔’’ہم نے بہت سے مواقع ضائع کیے۔ ہمیں گیند کو اپنی گرفت میں رکھنے کی مشق کرنی ہے۔ ہمیں کھیل کے اختتام تک جم کر کھیلنے کی پریکٹس کرنا ہے تاہم ہمارے پاس کارکردگی میں بہتری کے لیے خاصا وقت موجود ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم رواں برس کے اختتام پر نئی دہلی میں منعقدہ چیمپیئنز ٹرافی تک ان تمام امور میں بہتری لے آئیں گے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس