چائلڈ پورنوگرافی: بارہ ملکوں میں چھاپے، درجنوں گرفتاریاں | حالات حاضرہ | DW | 14.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چائلڈ پورنوگرافی: بارہ ملکوں میں چھاپے، درجنوں گرفتاریاں

بچوں کا جنسی استحصال کرنے اور ان سے فحاشی کرانے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے خلاف بیک وقت بارہ ملکوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے مارے جانے والے چھاپوں کے دوران کم از کم ساٹھ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

میکسیکو میں میکسیکو سٹی سے پیر چودہ دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس گروہ کے ارکان کا تعلق مجرموں کے ایک ایسے گروپ سے ہے، جو بچوں کا فحش تصویری اور ویڈیو مواد تیار کر کے اسے انٹرنیٹ کے ذریعے تقسیم کرتا تھا۔

میکسیکو کے سکیورٹی کمیشن یا CNS کہلانے والے ملکی ادارے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مجرموں کے اس بین الاقوامی گروہ کے خلاف چھاپے جن بارہ ملکوں میں مارے گئے، ان میں براعظم یورپ سے اسپین اور براعظم شمالی امریکا سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے علاوہ کم از کم 10 ایسے ممالک بھی شامل ہیں، جن کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے۔

CNS کے مطابق ان ایک درجن ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اس مربوط آپریشن کے دوران کم از کم پانچ درجن مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ ان چھاپوں کے دوران نہ صرف 60 ملزمان کو گرفتار کیا گیا بلکہ چار ایسی نابالغ لڑکیوں کو بھی رہا کرا لیا گیا، جو ان ملزمان کی حراست میں تھیں اور جن سے وہ زبردستی فحاشی کراتے تھے۔

ایسی جن تین نابالغ لڑکیوں کو میکسیکو میں ملزمان کے قبضے سے برآمد کر کے حکام نے اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا، ان کی عمریں نو، چودہ اور پندرہ برس بتائی گئی ہیں۔

اس وسیع تر کارروائی میں بہت سے جنوبی امریکی ملکوں میں سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو اسپین میں قومی پولیس اور امریکا میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آئی کا تعاون بھی حاصل تھا۔

بین الاقوامی سطح پر سرگرم اور بچوں سے متعلق فحش مواد کی تیاری اور انٹرنیٹ پر مجرمانہ تشہیر میں ملوث اس گرو کے ارکان کے خلاف جن بارہ ملکوں میں چھاپے مارے گئے، ان میں امریکا، اسپین، میکسیکو، ارجنٹائن، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، گوئٹے مالا، یوروگوائے، پیراگوائے اور وینزویلا شامل ہیں۔

DW.COM