پی ٹی ایم کارکنان کی ہلاکت، ایمنسٹی کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 28.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پی ٹی ایم کارکنان کی ہلاکت، ایمنسٹی کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر نگاہ رکھنے والی بين الاقوامی تنظيم ايمنسٹی انٹرنيشنل نے پاکستان ميں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت کا نوٹس ليتے ہوئے اس معاملے کی تحقيقات پر زور ديا ہے۔

پاکستان کے ايک مقامی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ علی وزیر کو آٹھ روز کے لیے انسداد دہشت گری کے محکمے کے حوالے کر دیا ہے۔ علی وزیر کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج اور پی ٹی ایم کارکنان کے درمیان تصادم کے دو روز بعد بنو کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

گزشتہ اتوار يعنی چھبيس مئی کے روز پی ٹی ايم کے کئی کارکنوں نے شمالی وزيرستان ميں بويا کے مقام پر احتجاج کيا۔ ريلی کے دوران ايک چيک پوائنٹ کے قريب مظاہرين اور سکيورٹی فورسز کے مابين تصادم ہوا جس کے نتیجے میں پی ٹی ایم کے تین کارکنان ہلاک اور پانچ فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ پاکستانی فوج کا دعوی ہے کہ پی ٹی ایم کے کارکنان نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں فوجی چوکی پر حملہ کیا اور سپاہیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ بعد ازاں علی وزیر اور پی ٹی ایم کے کچھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گيا تھا جبکہ محسن داوڑ کو مفرور قرار دے دیا گيا تھا۔

اس معاملے پر آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے ايک ٹوئیٹ میں لکھا،’’ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنان کو احتیاط کرنا ہوگی۔ چند لوگ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ ‘‘

منگل کو تازہ پيش رفت ميں محسن داوڑ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں وہ پی ٹی ایم کے کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جو شمالی وزیرستان میں ہوا، وہ کشمیر میں یا فلسطین میں نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجیوں کی فائرنگ سے تین نہیں بلکہ مجموعی طور پر آٹھ کارکنان ہلاک ہوئے ۔ محسن داوڑ  اس ویڈیو میں کہہ رہے ہیں، ’’یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، آپ فیصلہ کریں کہ آپ نے غلامی کی زندگی گزارنی ہے یا اپنی مرضی سے زندگی گزارنی ہے۔‘‘ داوڑ کے دعوے کی ديگر آزاد ذرائع سے فی الحال تصديق نہيں ہو سکی ہے۔

اس معاملے پر ايمنسٹی ميں جنوبی ايشيائی ممالک کے ليے ريسرچر کے طور پر کام کرنے والی رابعہ محمود نے کہا، ’’پاکستانی حکومت کو اس واقعے کی فوری اور با اثر تفتيش کا حکم جاری کرنا چاہيے۔‘‘ محمود نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا، ’’بین الاقوامی قوانین کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کا استعمال صرف اس صورت میں کیا جاتا ہے جب ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔ اور جب طاقت کا استعمال کیا جائے تو اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال تو نہیں کیا گیا اور اگر ایسا ہوا، تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ پشتونوں کے حقوق کے ليے گزشتہ برس کے اوائل ميں شروع ہونے والی تحريک سے پاکستان کی فوج سميت کئی حلقے زيادہ خوش نہيں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) جبری گمشدگيوں اور فوج کی مبينہ زيادتيوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔