پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے دی | حالات حاضرہ | DW | 12.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے دی

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا بارہا اصرار رہا کہ چاہے کچھ ہوجائے وہ اپنے سیاسی مخالفین کو این آر او نہیں دیں گے۔

کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ ''انسانی بنیادوں‘‘ پر کیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی بعد نواز شریف علاج کی غرض سے باہر جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں نواز شریف کا نام مشروط طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ اکثریت رائے سے کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین جتنی چاہے بلیک میلنگ کرلیں، وہ جب تک زندہ ہیں، این آر او نہیں دیں گے۔ پاکستان میں اکثر تجزیہ کاروں کا خیال رہا ہے کہ اگر کسی سیاسی رہنما کو کوئی این آر او دیا بھی گیا تو اس میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی منگل کو رات گئے قانونی معاملات طے کرے گی۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت نے نواز شریف سے اپنی واپسی کی تاریخ دینے اور سکیورٹی بانڈ جمع کرانے کے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بانڈ کی مالیت کتنی ہوگی، یہ ابھی واضح نہیں۔ البتہ بعض اندازوں کے مطابق یہ رقم العزیزیہ کیس میں جرمانے یعنی 25 ملین ڈالر یا اربوں روپے ہوسکتی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے والی فضائی ایمبولینس بدھ کو دستیاب ہو جائے گی۔ 

مسلم لیگ نواز کی رہنما عظمیٰ بخاری نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، "میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا جنرل مشرف سے کوئی سکیورٹی بانڈ لیا گیا تھا؟ حکومت اس مسئلے پر سیاست کرکے میاں صاحب کی جان کو خطرہ میں ڈال رہی ہے، جو قابل مذمت ہے۔ "

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، "یہ سب کچھ حکومت ہمیں بدنام کرنے کے لیے کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ میاں صاحب کی جان کو خطرہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم یہ جرمانے دیں گے تو یہ کہیں گہ کہ ن لیگ نے پلی بارگین کر لی۔ ہم اس مطالبے کو مسترد کرتے ہیں۔ "

DW.COM