1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien | Unabhängigkeitstag
تصویر: Amit Dave/REUTERS
سیاستبھارت

پچھتر برس بعد بھارتی جمہوریت دباؤ میں

12 اگست 2022

بھارت میں پانچ اگست کو شروع ہونے حکومت مخالف مظاہرے ایک عام سا احتجاج تھا، جس میں اپوزیشن پارٹی نے مہنگائی اور افراط زر کے خلاف نعرے بازی کی۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے حالات کچھ بدل گئے۔

https://www.dw.com/ur/%D9%BE%DA%86%DA%BE%D8%AA%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%B3-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%AC%D9%85%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%D8%AF%D8%A8%D8%A7%D8%A4-%D9%85%DB%8C%DA%BA/a-62787436

بھارت میں بڑھتی بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور دیگر کئی اہم سماجی و سیاسی مسائل پر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ کمزور اپوزیشن کانگریس طاقتور وزیر اعظم نریندر مودی کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ دو انتخابات میں  کانگریس پارٹی کو پچھاڑ چکی ہے۔

تاہم پانچ اگست کو جب راہول گاندھی حکومت مخالف ایک مظاہرے کی قیادت کر رہے تھے تو پولیس نے کچھ دیر کے لیے انہیں اور ان کے دیگر ساتھیوں کو حراست میں  لے لیا۔

بعدازاں گاندھی نے اپنی گرفتاری کی کچھ تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں جمہوریت ایک یادداشت کی طرح ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ان کی یہ ٹویٹ دراصل موجودہ سیاسی حالات میں ان کی بے بسی اور کچھ کر گزرنے کی خواہش کو بیان کرتی ہے۔

تاہم ناقدین کے مطابق بھارتی جمہوریت میں ایک نئی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جس کے آثار کچھ اچھے نہیں ہیں۔ حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بڑھا ہے، جس کی وجہ سے راہول گاندھی عوامی ہمددری حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالات میں ایسی تبدیلی آئی ہے کہ اگر راہول درست طریقے سے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تو لوگ ان کے ساتھ مل سکتے ہیں۔

حالات بدل گئے، ارون دھتی رائے

جہاں عوام حکومت کی سیاسی عدم برداشت سے نالاں ہیں، وہیں ان کا عدلیہ پر اعتماد بھی کچھ کم ہوا ہے۔ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ اب عدلیہ حکومتی مشنری پر چیک رکھنے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔ پریس پر حملے اور آزادی رائے کے اظہار پر پابندیاں بھی بھارتی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

اس کے علاوہ مذہبی عدم برداشت اور اقلیتوں کی ابتر ہوتی صورتحال بھی بھارتی جمہوریت کے لیے ایک سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بالخصوص قوم پسند وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہوئی ہے، شدت اور انتہا پسند ہندو افراد اور اداروں کو کھل کر کھیلنا کا موقع مل گیا ہے۔

 بکر پرائز حاصل کرنے والی بھارتی ادیبہ اور دانشور ارون دھتی رائے کے بقول آزادی ملنے کے بعد بھارت نے دیگر سابق نوآبادتی ممالک کے مقابلے میں بہت اچھے طریقے سے ترقی کی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ آزادی کے پچھتر برس مکمل ہونے پر ان کا دل کچھ خوش نہیں۔ انہوں نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی جمہوریت بیمار ہو چکی ہے۔

آخری امید عدلیہ

کئی ملکی اور غیر ملکی ادارے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں مودی کے دور میں بنائی گئی  پالسیوں کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان ہی ہوا ہے۔ 

صحافی اور لکھاری کومی کپور نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ مودی کی حکومت میں میڈیا کی آزادی سکڑ کر رہ گئی ہے۔

'دی ایمرجنسی اے پرسنل ہسٹری‘ کی خالق کومی نے مزید کہا کہ جمہوری حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ناامید نہیں ہوئی ہیں، ''ابھی سب کچھ ہی ہاتھ سے نہیں نکلا‘‘۔

کومی نے رجعت پسندی کا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہی ادارہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری طاقت کو بدنامی سے بچا سکتا ہے، ''اگر عدلیہ کی آزادی ختم ہوئی تو مجھے ڈر ہے کہ پھر کچھ نہیں بچے گا۔‘‘

بھارتی خاتون صحافی رعنا ایوب نے خاموش رہنے سے انکار کردیا

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پاکستان صحت کے شعبے میں تباہی کے دہانے پر، عالمی ادارہ صحت

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں