پنجاب حکومت پولیس اصلاحات لانے میں ناکام | حالات حاضرہ | DW | 03.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پنجاب حکومت پولیس اصلاحات لانے میں ناکام

پاکستان کے ضلع رحیم یار خان میں  پنجاب پولیس کے مبینہ تشدد کے باعث صلاح الدین ایوبی نامی شخص کی ہلاکت پر پنجاب پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق صلاح الدین پر تشدد کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کے خلاف کیس درج کر لیا گیا ہے۔ صلاح الدین ذہنی طور پر کمزور شخص تھا۔ اس کی ایک اے ٹی ایم توڑ کر اس میں سے کارڈ نکالنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ اس ویڈیو میں صلاح الدین کیمرے کو دیکھ کر منہ چڑاتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کیا اور اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ اپنی جان کھو بیٹھا۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، '' صلاح الدین کے والد کی درخواست پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او، اے ایس آئی اور تفتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں ایک شخص کی پولیس کے تشدد کے باعث ہلاکت کی خبر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں پولیس اصلاحات ایک اہم ترین موضوع تھا۔ اس سیاسی جماعت کو صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات لانے کے حوالے سے پذیرائی بھی حاصل ہوئی تھی۔ لیکن کیا پاکستان تحریک انصاف پنجاب پولیس کے نظام میں مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہی ہے ؟ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے رکن سروپ اعجاز  نے بتایا، ''خیبر پختونخوا میں واقعی پی ٹی آئی نے  اصلاحات کیں لیکن ابھی تک پنجاب میں گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی ایسے خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔‘‘ سروپ اعجاز مزید کہتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لیے گئے شہریوں پر تشدد کرنے کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے۔ پولیس اہلکار پولیس کو ہی جواب دہ ہیں اس لیے احتساب کے معاملے میں ان پر سختی نہیں ہے۔ سروپ کہتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ پولیس والوں کو بھی ڈر ہو کہ وہ کہیں جواب دہ ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، ''پولیس کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔  پولیس کو جدید طریقے سے تفتیش کرنے کی تربیت  نہیں دی گئی۔ یہ نہیں سکھایا جا رہا کہ یہ تشدد کے بغیر بھی تحقیقات کر سکتے ہیں۔‘‘

سوشل ميڈيا کی طاقت: بیٹی پر تشدد کرنے والا شخص گرفتار

’مسلمان پر تشدد ہوتا رہے، پولیس چائے پی رہی ہے‘

یہ جاننے کے لیے کہ کیا حکومت واقعی پنجاب پولیس کی کارکردگی اور شہریوں کے ساتھ احسن سلوک روا کرنے کے لیے کچھ اقدامات کر رہی ہے، پنجاب حکومت کے ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے ڈی ڈبلیو کی جانب سے پیغامات اور فون کالز کا جواب نہیں دیا۔

DW.COM