پاک بھارت کشیدگی: بین الاقوامی سطح پر کس کا موقف نمایاں رہا؟ | حالات حاضرہ | DW | 28.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاک بھارت کشیدگی: بین الاقوامی سطح پر کس کا موقف نمایاں رہا؟

جنوبی ایشیائی جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ دیکھیے، اس معاملے میں اہم ممالک کا ردعمل کیسا رہا۔

امریکی ردعمل کیا تھا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹھائیس فروری بروز جمعرات ہنوئے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دونوں ممالک سے اچھی خبریں آ رہی ہیں اور امید ہے کہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا قیام امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

لیکن امریکی وزیر خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان سے اس بات کی عکاسی بھی ہوئی کہ سرد جنگ کے دور کے برعکس اس مرتبہ واشنگٹن کا جھکاؤ پاکستان کے بجائے بھارت کی جانب زیادہ ہے۔ اس بیان میں مائیک پومپیو نے بھارتی طیاروں کے پاکستانی سرزمین پر حملے کو 'انسداد دہشت گردی کے لیے کی گئی کارروائی‘ قرار دیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف بامعنی کارروائی‘ کرے۔

DW.COM

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے سن 1971 کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی طیاروں کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت نہ کرنے پر امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر شدید تنقید کی۔ صرف وزیر خارجہ ہی نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان امریکا سے بہت زیادہ فائدہ‘ اٹھاتا رہا ہے اور اس بات کے لیے بھی ذہنی تفہیم کا اظہار کیا تھا کہ بھارت ’کسی بہت سخت ردعمل کی تیاری‘ کر رہا تھا۔

چین نے کیا کہا؟

بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنے روایتی حلیف ملک چین کو مسلسل آگاہ رکھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج جمعرات اٹھائیس فروری کے علاوہ پچیس فروری کے روز بھی اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

چھبیس فروری کے روز بھارتی طیاروں کے پاکستانی حدود میں حملے اور اس سے اگلے روز پاکستان کی جانب سے کم از کم ایک بھارتی طیارہ تباہ کر دیے جانے کے وقت بھی چین دونوں ممالک پر کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات پر زور دے رہا تھا۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا تاہم چین نے براہ راست بھارتی اقدام کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔

ستائیس فروری کو چین، روس اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی بیجنگ میں ایک ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی اور دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔

190227 Infografk Kashmir Conflict EN

ترکی نے کشمیر کے معاملے کو کشیدگی کی بنیاد قرار دیا

یورپی یونین کا ردعمل

یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران اہلکار فیدیریکا موگیرینی کے ستائیس فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی سے دونوں ممالک اور خطے کے لیے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ دونوں ممالک کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چند روز قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ اس گفتگو میں انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف 'واضح اور باہدف کارروائی‘ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

جرمنی کا ردعمل کیسا رہا؟

جرمن وزارت خارجہ نے بھی دونوں جوہری طاقتوں کے مابین کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

وفاقی جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ چودہ فروری کو بھارتی فوجیوں پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جیش محمد سمیت اپنی سرزمین پر موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ جرمنی نے بھارتی حملے اور اس کے بعد پاکستانی فوج کی کارروائی کی مذمت نہیں کی۔

سعودی عرب کا کردار کیسا رہا؟

سعودی عرب نے اس ضمن میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا تاہم پلوامہ حملے کے بعد سعودی ولی عہد نے پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا تھا، جو پہلے ہی سے طے شدہ تھا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھارت کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد نے نئی دہلی حکومت تک پاکستان کا پیغام بھی پہنچایا تھا۔ محمد بن سلمان کے دورہ بھارت کے دوران مشترکہ اعلامیے میں اقوام متحدہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست کو سیاسی نہ بنانے کا ذکر بھی موجود تھا۔ تاہم دی ڈپلومیٹ میں جمعرات جو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بعد ازاں سعودی وزیر خارجہ نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ یہ بیان جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سے متعلق نہیں تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی آج اٹھائیس فروری کے روز پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزیر عادل الجبیر ایک اہم پیغام لے کر پاکستان آنے والے ہیں۔

ایران اور ترکی کے بیانات

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پاکستان اور بھارت کے مابین جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے بطور ثالث کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جب کہ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وہ جلد ہی اپنی بھارتی ہم منصب وزیر کو بھی فون کریں گے۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاوُش اولو نے بھی کہا کہ ترکی دونوں ممالک کے مابین ثالثی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تاہم کشمیر کے معاملے کو کشیدگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

روس اور برطانیہ

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے آج اٹھائیس فروری کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف پہلے ہی دونوں ممالک کے مابین ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق ماسکو نے معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کو پیشکش کی کہ روس انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مزید تعاون کے لیے تیار ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر لندن حکومت کو تشویش ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو برطانیہ کے دوست قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر وہ اپنے پاکستانی اور بھارتی ہم منصب وزراء سے بھی رابطے کر چکے ہیں۔

اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی)

او آئی سی نے اس تنظیم کے بانی رکن پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور وہاں بم گرائے جانے کے واقعے پر بھارت کی مذمت کی۔ اس تنظیم نے فریقین پر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

DW.COM