پاکستان: ہٹ لسٹ پر اینکر، ماڈلز اور فیشن ڈیزائنر | حالات حاضرہ | DW | 08.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: ہٹ لسٹ پر اینکر، ماڈلز اور فیشن ڈیزائنر

پاکستان کی پولیس نے صوبہ سندھ کے ساحلی شہر کراچی میں ایک ایسے عسکریت پسند کو پکڑا ہے، جس کے قبضے سے لی جانے والی ہٹ لسٹ پر ملک کے مشہور اینکرز، ماڈلز اور فیشن ڈیزائنروں کے نام ہیں۔

کراچی پولیس کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز پر، جس مبینہ عسکریت پسند کو پکڑا گیا ہے، وہ شوبز کی متعدد مشہور شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ پکڑے جانے والے مبینہ عسکریت کا تعلق کسی مذہبی یا عسکری تنظیم سے ہے یا پھر وہ خود سے ہی یہ کارروائیاں کرنا چاہتا تھا۔ حکام کے مطابق پولیس اس سلسلے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور گرفتار ملزم سے کسی نامعلوم مقام پر تفتیش جاری ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ہٹ لسٹ پر شوبز کی مشہور شخصیات کے ساتھ ساتھ کئی ٹی وی اینکرز، ڈیزائنرز، فیشن ماڈل، گلوکاروں اور اداکاروں کے نام شامل ہیں۔ پولیس کے سینئر عہدیدار جمیل احمد کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ملزم کا تعلق کس گروپ سے ہے، یہ بتانا ابھی قبل از وقت ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ ملزم ’’انتہائی کٹر ذہن‘‘ کا مالک ہے۔

بتایا گیا ہے کہ قبضے میں لی جانے والی ہٹ لسٹ طالبان کی روایتی لسٹ کی طرح نہیں ہے، جو عموماﹰ سیاستدانوں یا پھر اقلیتی اراکین کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی ہٹ لسٹ برآمد نہیں ہوئی، جس میں تاجروں کے نام بھی شامل کیے گئے ہوں۔

مقامی میڈیا کے مطابق کراچی میں ڈی آئی جی ساؤتھ جمیل احمد کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ مبینہ عسکریت پسند ان مشہور شخصیات کو ہدف بنا کر عوام میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیلانا چاہتا تھا۔

ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ ان شخصیات کو آگاہ کریں کہ وہ اپنی نقل و حرکت کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ پولیس کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔

پاکستانی حکام ماضی میں ایسے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں، جن کے مطابق اب مڈل کلاس اور پڑھے لکھے ایسے عسکریت پسند منظر عام پر آ رہے ہیں، جو عسکری تنظیموں سے تعلقات رکھتے ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں کراچی کی مشہور سماجی شخصیت سبین محمود کو قتل کر دیا گیا تھا۔ پاکستانی خفیہ حکام نے اس قتل کی ذمہ داری سعد عزیز نامی ایک یونیورسٹی گریجویٹ پر عائد کی تھی، جو خود سے عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوا تھا۔