1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Belutschistan | Operation gegen Drogenhändler
تصویر: Abdul Ghani Kakar/DW
دہشت گردیایشیا

کوئٹہ میں خود کش حملہ، پولیس افسر سمیت تین افراد ہلاک

30 نومبر 2022

پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں بدھ کے روز ایک خود کش بمبار نے گشت کرنے والی پولیس کی ایک ٹرک کو نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

https://p.dw.com/p/4KGoW

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 30 نومبر بدھ کے روز کوئٹہ کے بلیلی علاقے میں 'بلوچستان کانسٹیبلری'  کے ایک ٹرک کے پاس ہونے والے خود کش حملے میں ایک پولیس افسر اور دو عام شہریوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔

حنا ربانی کھر کا دورہ افغانستان، طالبان رہنماؤں سے ملاقات

حملے سے متعلق معلومات کیا ہیں؟

ایک مقامی پولیس اہلکار عبدالحق نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ''ایک بم دھماکے ذریعے گشت کرنے والی پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس میں سے ایک پولیس اہلکار، ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گیا۔''

تحریک طالبان پاکستان کے حملے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک

کوئٹہ کے سینیئر پولیس افسر غلام اظفر مہیسر نے بتایا ہے کہ حملے میں کم از کم 24 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جس میں 20 پولیس اہلکار اور چار عام شہری شامل ہیں۔ ان کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب پولیس اہلکار پولیو ورکرز کو سکیورٹی فراہم کرنے کی خاطر ان کی جانب جا رہے تھے۔ ملک میں پولیو کی روک تھام کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز پیر کو ہوا تھا۔

 غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ بم دھماکے سے ایک قریبی کار کو بھی نقصان پہنچا جس میں ایک خاندان کے چند افراد سوار تھے۔ ان کا کہنا تھا، ''دھماکہ پولیس ٹرک کے پاس ہوا، جس کے زبردست اثر کی وجہ سے گاڑی، جو پولیو کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جا رہی تھی، پلٹ گئی اور ایک کھائی میں جا گری۔''

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے کل تین گاڑیاں متاثر ہوئیں، جس میں پولیس ٹرک، ایک سوزوکی مہران اور ایک ٹویوٹا کرولا شامل ہے۔ ان کے مطابق، ''جائے وقوعہ کو دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ٹرک دھماکے سے پلٹ گیا، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دھماکے میں 25 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہو گا۔''

Symbolbild Pakistan Taliban Geiselnahme
تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ روز ہی حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں سے ملک بھر میں حملے کرنے کے لیے کہا تھاتصویر: Getty Images/AFP/C. Khan

 ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی

ممنوعہ گروپ تحریک طالبان پاکستان  (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ روئٹرز کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ نے اسے ایک ٹیکسٹ مسیج بھیج کر اس کی اطلاع دی ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی نے گزشتہ روز ہی حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں سے ملک بھر میں حملے کرنے کے لیے کہا تھا۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ایک بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے حملے میں، ''پولیس کو نشانہ بنایا گیا تاکہ اپنے سابق ترجمان عبدالولی کے قتل کا انتقام لیا جا سکے۔''

 واضح رہے کہ عبدالولی عمر خالد خراسانی کے نام سے معروف تھے، جو گزشتہ اگست میں افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی موت طالبان گروپ کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔

رواں ماہ کی 16 تاریخ کو پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ  کے شہر لکی مروت میں بھی ٹی ٹی پی نے ایک حملہ کیا تھا، جس میں چھ پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی تھی۔ طالبان نے پولیس کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔

حالیہ مہینوں میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور سرحدی علاقوں میں تشدد کی لہر میں شدت دیکھی گئی ہے جبکہ مقامی شہری امن کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔

سرحدی علاقوں میں طالبان کے دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات پر مقامی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، اسی لیے مظاہروں کے دوران حکومت اور فوج کی عدم فعالیت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی تھی۔

تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ برسوں میں تشدد کے دوران اب تک تقریبا ً80,000 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ افغانستان کے طالبان

 حکام کی ثالثی میں اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد مبینہ طور پر پاکستانی طالبان اپنے اڈوں پر دوبارہ اپنی گرفت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے ایف پی، اے پی)

’پاکستانی طالبان کی واپسی خطرناک ہو گی‘

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | Explosion in einer Moschee in Peshawar

پاکستان ٹی ٹی پی کو قابو کرنے میں کیوں ناکام؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں