پاکستان کے لیے ٹیکس ریونیو میں اضافہ اشد ضروری، آئی ایم ایف | حالات حاضرہ | DW | 22.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کے لیے ٹیکس ریونیو میں اضافہ اشد ضروری، آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے قائم مقام ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے اس کو حاصل ہونے والے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے اور سماجی ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل اسی طرح دستیاب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، دائیں، آج پیر بائیس جولائی کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، دائیں، آج پیر بائیس جولائی کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں

امریکی دارالحکومت سے پیر بائیس جولائی کی صبح موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن نے امریکا کے دورے پر گئے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اتوار اکیس جولائی کو واشنگٹن میں ایک ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان کو اس وقت جتنی ضرورت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے کی ہے، اسے اتنی ہی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک کے ذمے واجب الادا قرضوں میں کمی بھی لائی جائے۔

David Lipton IWF Vize Direktor

آئی ایم ایف کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن

عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد ڈیوڈ لپٹن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں شخصیات نے ان حالیہ اقتصادی ترقیاتی پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی مشاورت سے عمل درآمد ہو رہا ہے اور جن کا مقصد پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینا ہے۔

ڈیوڈ لپٹن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقومی مالیاتی ادارے اسلام آباد حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں جامع معاشی اصلاحات کے ان منصوبوں کو کامیابی سے تکمیل تک پہنچایا جا سکے، جن پر عمل درآمد رکنا نہیں چاہیے۔ دوسری طرف پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری بچتی اقدامات کی وجہ سے بے تحاشا عوامی دباؤ اور عدم اطمینان کا سامنا بھی ہے۔

ڈیوڈ لپٹن نے آئی ایم ایف کے جاری کردہ اس بیان میں کہا، ''میں نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی آمدنی کے لیے ٹیکس ریونیو میں اضافے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اسے اپنے ہاں سماجی بہتری اور ترقیاتی اخراجات کے لیے نہ صرف کافی مالی وسائل میسر آ سکیں بلکہ ساتھ ہی اسلام آباد کے ذمے واجب الادا بیرونی قرضے بھی کم کیے جا سکیں۔‘‘

عمران خان کی ٹرمپ سے ملاقات آج پیر کو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کل اتوار اکیس جولائی کو واشنگٹن پہنچے تھے اور وہ آج پیر بائیس جولائی کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود ہوں گے۔ امید ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان میں قیام امن کے عمل سے متعلق تبادلہ خیال کو کلیدی اہمیت حاصل رہے گی۔

روئٹرز کے مطابق امید ہے کہ وائٹ ہاؤس میں آج کی اس ملاقات میں صدر ٹرمپ وزیر اعظم عمران خان پر اس حوالے سے زور ڈالیں گے کہ اسلام آباد افغانستان میں جنگ کے خاتمے میں مدد کرے اور وہاں سرگرم عسکریت پسندوں پر قابو پانے میں بھی اپنا کردار اداکرے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس پاکستان کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر کی امریکی امداد یہ الزامات لگا کر روک دی تھی کہ واشنگٹن کو اس امداد کے بدلے پاکستان سے 'جھوٹ اور دھوکا دہی‘ کے سوا کچھ نہیں مل رہا تھا۔

عمران خان کا جلسے سے خطاب

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کل اتوار کی رات واشنگٹن کے کیپیٹل ون آرینا میں ایک بڑے جلسے سے خطاب بھی کیا، جس میں ہزارہا پاکستانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہریوں نے حصہ لیا۔ اس جلسے سے اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ان کی حکومت کی طرف سے ملک میں شروع کردہ قومی احتسابی عمل ہر حال میں مکمل کیا جائے گا اور وہ بدعنوان سرکردہ سیاسی رہنما اور شخصیات جنہوں نے قوم کے اربوں کھربوں روپے لوٹے ہیں، انہیں قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جایا گا۔

م م / ع ا / روئٹرز

DW.COM