1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Flaggen I Indien I Pakistan
تصویر: Yann Tang/Zoonar/picture alliance
تنازعاتامریکہ

پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کسی کے مفاد میں نہیں، بھارت

صلاح الدین زین
27 ستمبر 2022

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی امریکہ کے شراکت دار ہیں، اور وہ ان تعلقات کو دونوں ملکوں کے رشتوں کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ بھارت نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے امریکی امداد پر شدید اعتراض کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/4HOTB

واشنگٹن نے ایک بار پھر سے بھارت کے ان اعتراضات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی ہے کہ آخرامریکہ نے پاکستان کے ایف سولہ جنگی طیاروں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کے لیے مالی امداد کیوں فراہم کی۔  

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے پیر کے روز کہا بھارت اور پاکستان دونوں مختلف نکتہ نظر سے امریکہ کے شراکت دار ہیں اور یہ تعلقات ایک دوسرے کے درمیان تعلقات سے مربوط نہیں ہیں۔

امریکہ اور بھارت کی مشترکہ فوجی مشقوں پر چین کا اعتراض

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران اسلام آباد کے لیے تازہ ترین سیکورٹی امداد کے پیچھے واشنگٹن کی دلیل پر سوالات اٹھائے تھے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایف 16 جنگی طیارے کس کے لیے ہیں، اس بارے میں کسی کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

امریکہ نے کیا وضاحت کی؟

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنی روزانہ کی نیوز کانفرنس میں بھارتی اعتراضات سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے دونوں ملکوں کے ساتھ رشتوں کی نوعیت مختلف ہے۔ 

ان کا کہنا تھا، ''ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک دوسرے کے تعلقات کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔ یہ دونوں ہی ملک ہمارے شراکت دار ہیں، جن میں سے ہر ایک میں مختلف نکات پر زور دیا گیا ہے۔'' 

امریکہ نے پیغمبر اسلام کے متعلق بی جے پی رہنماوں کے بیانات کی مذمت کی

ان کا مزید کہنا تھا، ''ہم دونوں کو پارٹنر کے طور پر دیکھتے ہیں، کیونکہ بہت سے معاملات میں ہماری قدریں مشترک ہیں۔ ہمارے بہت سے معاملات میں مشترکہ مفادات بھی ہیں۔ اور بھارت کے ساتھ جو ہمارے تعلقات ہیں، وہ اپنے طور بالکل الگ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ  بھی ہمارے تعلقات اپنے طور پر بالکل الگ ہیں۔''

نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا، ''ہم چاہتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو ہم ایسی کوششیں کریں کہ جس سے ان پڑوسی ملکوں کے درمیان ممکنہ حد تک تعمیری تعلقات اور رشتے قائم ہو سکیں۔ یہ ایک اور نقطہ ہے جس پر زور دینے کی ضرورت ہے۔''

بھارت کا اعتراض

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے واشنگٹن میں بات چیت کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان کے تعلقات کی ''بہتری'' پر یہ کہہ کر سوالات اٹھائے تھے کہ اسلام آباد کے ساتھ واشنگٹن کے رشتے ''امریکی مفاد'' کو پورا نہیں کرتے ہیں۔

جے شنکر نے اتوار کے روز واشنگٹن میں بھارتی امریکی کمیونٹی کی ایک تقریب کے دوران کہا تھا، ''یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس نے نہ تو پاکستان کی کوئی اچھی خدمت کی ہے اور نہ ہی امریکی مفادات کو پوراکرتا ہے۔''

بھارت کا افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر بالواسطہ حملہ

انہوں نے یہ باتیں اس وقت کہیں جب ان سے پاکستان کے ایف سولہ جنگی طیاروں کی مرمت کے لیے حالیہ امریکی امداد کے بارے میں سوال کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں بائیڈن کی انتظامیہ نے پاکستان کے لیے 450 ملین امریکی ڈالر کی امداد کی منظوری دی تھی تاکہ پاکستان کے پاس پرانے ایف 16 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال کی جا سکے۔

 

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا، ''حقیقت میں آج یہ امریکہ پر ہے کہ وہ اس رشتے کی خوبیوں پر غور کرے اور بتائے کہ اس سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے۔''

انہوں نے کہا، ''جب آپ ایف 16 جنگی طیارے کی صلاحیت کی بات کرتے ہیں، تو ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کہاں تعینات ہیں اور ان کا استعمال کیا ہے۔ اس طرح کی باتیں کہہ کر کسی کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔''  انہوں نے زور دے کر کہا، ''اگر میں کسی امریکی پالیسی ساز سے بات کروں، تو میں حقیقت میں اسے بناؤں گا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔''

افغانستان پر امریکہ پاکستان سے کیا توقع رکھتا ہے؟

ایک اور سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ''افغانستان میں عدم استحکام اور تشدد کا چلن پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔''

انہوں نے کہا، ''جہاں تک افغانستان کے لوگوں کی حمایت کا سوال ہے، تو ہم اس پر اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ باقاعدگی سے تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔ ہماری کوشش افغان عوام کی زندگی، معاشی حالت اور انسانی صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔ اس بات کو بھی دیکھنا ہے کہ طالبان اپنے وعدوں پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔''

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کے بہت سے وعدوں کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ اس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اور محفوظ راستہ فراہم کرنے سے متعلق وعدے یا پھر افغان شہریوں سے کیے گئے وعدے شامل ہیں۔ ''طالبان کی جانب سے ان وعدوں پر عمل کرنے کی خواہش یا ان کی نااہلی پر پاکستان کے لیے بھی اہم مضمرات ہوں گے۔''

پرائس نے کہا، ''لہذا، اسی وجہ سے، ہم پاکستان کے ساتھ اس کے پڑوسی کے حوالے سے بہت سے مفادات کا اشتراک کرتے ہیں۔''

تقسیم ہند کی کچھ یادیں، کچھ باتیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kabul Botschaftsgebäude von Pakistan

کابل میں پاکستانی سفارتی مشن پر حملہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں