1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتامریکہ

'ڈونلڈ لو‘ سے بھارت نے کیوں ناراضگی کا اظہار کیا؟

صلاح الدین زین
12 ستمبر 2022

بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے لیے ایف 16 طیاروں کے پرزے اور مرمت کے لیے مدد فراہم کرنے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4GiYr
Pakistan Islamabad - Pakistan Air Force Jet bei Militärparade
تصویر: picture alliance/AP Photo/A. Naveed

چند روز قبل ہی امریکہ نے پاکستان کے ایف 16 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور مرمت کے مقصد سے کچھ فاضل پرزہ جات کے لیے 450 ملین ڈالر مالیت کی مدد کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بھارت نے اس کے خلاف امریکی حکام سے شکایت کی ہے۔

امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونالڈ لو کواڈ کی میٹنگ کے سلسلے میں دہلی کے دورے پر تھے اور بھارتی حکام نے ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ایف سولہ طیاروں کی اپ گریڈیشن  کا مسئلہ سختی سے اٹھایا۔ 

بھارت نے اعتراض کیوں کیا؟

بھارت نے اس موقع، خاص طور پر، ایف 16 جنگی طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور امریکی سپورٹ پر اعتراض کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے، ’’انسداد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں‘‘ کے لیے امریکی ساخت کے ان طیاروں کی بہت ضرورت ہے۔ تاہم بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ان طیاروں کا استعمال اس کے خلاف ہونے والے آپریشن میں کیا جاتا ہے۔

امریکہ نے بھی پاکستانی جنگی طیاروں کی مرمت کے لیے اپنی مدد کا اعلان ایک ایسے وقت کیا جب یہ امریکی وفد بھارتی حکام سے نئی دہلی میں ملاقاتیں کر رہا تھا۔ اس وقت وزارت خارجہ سے سوالات کیے گئے تاہم نئی دہلی نے خاموشی اختیار کر لی۔

لیکن اطلاعات کے مطابق لو سے ملاقاتوں کے دوران بھارتی حکام نے اس معاملے پر اپنے شکوک و شبہات کو دہرایا اور واضح طور پر اپنی ناراضگی ظاہر کر دی۔ اس سے قبل سن 2016 میں جب امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیارے فروخت کرنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا، تو بھارت نے احتجاج کرتے ہوئے امریکی سفیر تک کو طلب کر لیا تھا۔

ہتھیاروں پر دنیا کے اخراجات، تاریخ کی بلند ترین سطح پر

امریکی وضاحت

تاہم ڈونالڈ لو نے بھارتی حکام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ایف 16 جنگی طیاروں کے لیے جو پیکج فراہم کیا گیا ہے، وہ ان طیاروں کی مرمت کے لیے ہے، جن میں سے بعض 40 برس تک پرانے ہو چکے ہیں۔

Pakistan Air Force | F 16C |  Nellis Air Force Base Nevada
تصویر: imago/StockTrek Images/R. Edgcumbe

انگریزی اخبار دی ہندو کے مطابق انہوں نے کہا، ’’یہ دفاعی فروخت کی امریکہ کی اس عالمی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت ہتھیاروں کی زندگی بھر مرمت اور ان کی دیکھ بھال کا کام بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘‘

امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونالڈ لو نے ایک بھارتی ٹی وی چینل 'انڈیا ٹوڈے' سے بات چیت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا،’’ہمیں بھارتی حکومت کی جانب سے کئی خدشات سننے کو ملے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’واضح طور پر مجھے یہ کہنے دیں کہ یہ ایک مرمت اور دیکھ بھال کا پروگرام ہے۔ کسی نئے طیارے پر غور نہیں کیا جا رہا ہے، کوئی نئی صلاحیت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کوئی نیا ہتھیاروں کا نظام فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘

افغانستان: چین، پاکستان اور بھارت میں اثر و رسوخ کی کشمکش

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ "مضبوطی سے" کھڑا رہے گا کیونکہ اسے چین کی طرف سے "خوفناک خطرہ" لاحق ہے۔ تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اس بارے میں بھی کوئی بیان جاری کرنے سے گریز کیا کیونکہ چین سرحدی تنازعے میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت سے انکار کرتا ہے۔

امریکی پیشکش کیا تھی؟

گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی مرمت کا ساز و سامان فراہم کرنے کے لیے تقریبا 45 کروڑ ڈالرز کے معاہدے کی منظوری دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی مرمت کے سلسلے میں معاونت فراہم کی جائے گی۔ تاہم اس معاہدے میں پاکستان کو کسی نئی قسم کے ہتھیاروں کی صلاحیت فراہم نہیں کی جائے گی۔

تائیوان کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کو جدید بنانے پر چینی اعتراض

امریکہ نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی مرمت کے معاہدے سے علاقائی طاقت کے توازن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

خیال رہے کہ جولائی 2019 میں امریکی محکمہ دفاع نے پاکستان کو ایف سولہ جنگی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا، اور یہ سلسلہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی جاری تھا۔

امریکی ساختہ ایف سولہ طیارے پاکستان کی فضائی جنگی صلاحیت کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ پاکستان کے پاس مجموعی طور پر 85 ایف سولہ طیارے ہیں جن میں سے 66 پرانے بلاک 15 طیارے ہیں اور 19 جدید ترین بلاک 52 ہیں۔ یہ طیارے امریکی ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔

امریکا کی طرف سے بھارت کی خصوصی تجارتی حیثیت ختم کرنے کا عندیہ