پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی بحران سنگین ہوتا ہوا
24 جون 2026
19 جون کو سجاول حسین راولپنڈی سے موٹر سائیکل پر اپنے گھر پلندری جا رہے تھے کہ آزاد پتن کے مقام پر ایک پولیس ناکے پر انہیں روک لیا گیا۔ ان کے پاس دو کلو آم، ایک درجن کیلے اور تھوڑی سی سبزیاں تھیں۔ سجاول کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان سے یہ تمام چیزیں رکھوا لیں اور کہا کہ اب وہ آگے جا سکتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”جس جگہ مجھ سے شاپر رکھوائے وہاں پہلے ہی سامان کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ہر ایک گاڑی کو چیک کیا جا رہا تھا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا بعض لوگ پولیس سے بحث کر رہے تھے کہ انہیں ادویات تو لے جانی دی جائیں، مگر وہاں موجود سپاہیوں کا کہنا تھا کہ اجازت نہیں ہے۔"
سوشل میڈیا پر گذشتہ چند دنوں سے ایسی متعدد ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکار نجی گاڑیوں کی تلاشی لیتے اور اشیائے خورد و نوش سے لدے ٹرکوں کو روکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ صحافی اور مصنف ارشاد دانش سمیت متعدد ذرائع نے بھی ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو میں خوراک کی سپلائی متاثر ہونے اور مختلف مقامات پر اشیائے خورد و نوش روکے جانے کی تصدیق کی۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج کے باعث جہاں معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں، وہیں خوراک اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
کشمیر میں آٹے اور سبزیوں کی کیا صورتحال ہے؟
حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج شروع ہونے سے پہلے عوام سے ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم مقامی لوگوں اور ماہرین کے مطابق بیشتر گھرانوں کے لیے ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔
باغ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کارکن انیب شوکت کہتے ہیں، ”کچھ گھرانوں کے لیے تو شاید ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنا ممکن ہو، لیکن بیشتر لوگوں کے لیے نہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں مزدور طبقہ اور عام لوگ معمولی مقدار میں آٹا خریدتے اور استعمال کرتے ہیں، لوگ اتنے پیسے کہاں سے لائیں کہ مہینے بھر کا اسٹاک جمع کر سکیں۔ سبزیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں زیادہ عرصے تک محفوظ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔"
معروف صحافی اور تجزیہ کار صفدر گردیزی، جو چند روز قبل مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ بحران کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے صرف آٹے کی صورتحال جاننا ہی کافی ہے۔
وہ ڈی ڈبلیو اردو کو بتاتے ہیں، ''سب سے بنیادی ضرورت آٹا ہے اور وہی دستیاب نہیں۔ جو آٹا مل رہا ہے، اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ کشمیر میں آٹے پر سبسڈی ہے اور یہ مقامی ڈیلیرز کے ذریعے عام افراد تک پہنچتا ہے۔ مگر ڈیلیرز بلیک میں فروخت کر رہے ہیں، جس تھیلے کی قیمت پندرہ سو ہے وہ تین ہزار میں فروخت ہو رہا ہے۔"
صفدر گردیزی کے مطابق، ”سرکاری نگرانی دکھائی نہیں دے رہی۔ عوام ڈیلیرز کے رحم و کرم پر ہیں۔ روزمرہ استعمال کی شاید ہی کوئی چیز مناسب قیمت پر مل رہی ہو۔"
انیب شوکت کہتے ہیں، ”باغ میں ٹماٹر تین سو روپے کلو اور ستر روپے کلو والا پیاز ڈھائی سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ قیمتوں میں اضافے نے عام لوگوں کی قوتِ خرید متاثر کی ہے۔"
صفدر گردیزی کہتے ہیں، ”مری اور کہوٹہ والے راستوں سے سپلائی گزرنے نہیں دی جا رہی، بھمبر سے کسی حد تک نرمی ہے لیکن وہ راستہ بہت لمبا پڑتا ہے، اس لیے سبزیاں قلت اور طویل راستے کے باعث مہنگی ہو رہی ہیں۔"
ادویات کا بحران کتنا شدید ہے؟
خوراک کی فراہمی سے متعلق خدشات کے ساتھ ساتھ ادویات کی دستیابی کے بارے میں بھی اہل کشمیر کے درمیان تشویش پائی جا رہی ہے۔
مظفر آباد میں میڈیکل کے بزنس سے وابستہ عبدالماجد اعوان کہتے ہیں، ”اتنے بڑے شہر میں صرف تین بڑے میڈیکل اسٹور کھلے ہیں، وہاں بھی بہت کم ادویات باقی رہ گئی ہیں، اگر تین چار دن یہی صورتحال رہی تو وہ بھی بند ہو جائیں گے۔ سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ادویات کی نئی کھیپ نہیں پہنچ رہی، ہم نے اپنے کیری ڈبے کے ذریعے راولپنڈی سے ادویات منگوانے کی کوشش کی لیکن مظفر آباد شہر میں داخل نہیں ہو سکیں، پولیس نے کہا اجازت نہیں ہے۔"
راولاکوٹ کے یونائیٹڈ ہسپتال کے ڈاکٹر حمزہ عرفان کے مطابق کشمیر میں صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''عملی طور پر ہسپتال معطل ہیں کیونکہ انتہائی بنیادی ضروریات کی ادویات بھی دستیاب نہیں۔ شوگر اور دل کے مریض سفارشیں کروا کر یا بلیک میں مہنگی دوائیں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس سے ضروریات کا دس فیصد بھی پورا نہیں ہو رہا۔ مریض ہسپتال آتے ہیں مگر مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پٹرول کی قلت کے باعث زیادہ تر عملہ گھر بیٹھا ہے۔ سرکاری ہسپتال ہوں یا پرائیوٹ، ہر جگہ یہی صورتحال ہے، اور مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔‘‘
صحافی اور مصنف دانش ارشاد ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”خطے میں لگ بھگ اڑھائی ہفتوں سے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں، بینک اور اے ٹی ایمز بند پڑے ہیں اور پٹرول کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ مظفرآباد جیسے مرکزی شہر میں پٹرول صرف انتظامی افسر کی مہربانی اور منظوری کے بعد ہی انتہائی محدود مقدار میں دیا جا رہا ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ معطل ہے۔"
تاہم ضلعی انتظامیہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتی کہ مظفرآباد میں خوراک یا دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر احمد قریشی نے ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ان کے ضلع میں معمولاتِ زندگی اور خوراک کی فراہمی جاری ہے۔ بازاروں میں تازہ سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ دستیاب ہیں، پٹرول مل رہا ہے، ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے۔"
وہ کہتے ہیں، ''جہاں ہڑتال یا احتجاج ہو وہاں بعض عارضی مشکلات ضرور پیدا ہوتی ہیں، تاہم مظفرآباد میں کسی قسم کا بحران یا غیر معمولی صورتحال نہیں ہے۔ کوئی سپلائی چین متاثر نہیں ہوئی۔ سب کچھ دستیاب ہے۔‘‘
خوراک اور ادویات کی سپلائی نشانے پر کیوں؟
چند روز قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں داخلے کے بعض اہم راستوں پر عائد پابندیوں کے باعث خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایسی پابندیاں شہریوں کی صحت، نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات تک رسائی کے حقوق پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری موجودہ بحران کے دوران ماضی کی نسبت ایک بالکل نئی حکمتِ عملی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
دانش ارشاد کہتے ہیں، ”زمینی حقائق اور عوامی تاثر سے یہ واضح ہے کہ حکامِ بالا نے اس مرتبہ احتجاج کا زور توڑنے کے لیے خوراک اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی لائن کو ہدف بنایا ہے۔ بظاہر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جب بنیادی ضرورتیں میسر نہیں ہوں گی تو مزاحمت زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی اور یوں عوامی ایکشن کمیٹی اندرونی دباؤ کے تحت اپنی احتجاجی تحریک ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔"
صفدر گردیزی کہتے ہیں، ”عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال ضرور دے رکھی ہے لیکن انٹری پوائنٹس کو بند نہیں کیا۔ وہاں سے گاڑیاں محدود تعداد میں اب بھی گزر رہی ہیں۔ ایسے میں اشیائے خورد و نوش سے لدے ٹرک کشمیر کیوں نہیں پہنچ رہے؟"
انیب شوکت کہتے ہیں، ”اس تمام صورتحال کے درمیان عام شہری شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ بھوک اور بیماری کو سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنانا افسوس ناک ہے۔ 18 جون سے سپلائی لائن متاثر ہے اور لوگ اب تک کسی نہ کسی طرح گزارہ کر رہے تھے، آگے کیا کریں گے؟"
ادارت: جاوید اختر