پاکستان کے خلاف ایک اور بھارتی جارحیت کا خدشہ ہے، شاہ محمود قریشی | حالات حاضرہ | DW | 07.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کے خلاف ایک اور بھارتی جارحیت کا خدشہ ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد حکومت کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت کی طرف سے آئندہ دنوں کے دوران پاکستان کے خلاف ایک اور جارحیت کی جا سکتی ہے۔ تاہم بھارت نے پاکستان کی طرف سے عائد کردہ اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے آبائی شہر ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ایک اور جارحیت کی جا سکتی ہے۔ قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ جارحیت 16 سے 20 اپریل کے دوران متوقع ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ  نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ قریشی کے مطابق اس کا مقصد عالمی برادری کو آگاہ کرنا ہے کہ وہ ایسی کسی کوشش کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ اس طرح کا کوئی عمل علاقائی امن و استحکام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Indien Pulwama - Anschlag auf Bus an der Autobahn Srinagar-Jammu

پلوامہ میں ایک خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور بھارت کی طرف سے ایسی کسی ’حماقت‘ کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دوسری طرف بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کو ’ہیجان آمیز‘ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد ہیں تو وہ نئی دہلی کو فراہم کرے۔

خیال رہے کہ 14 فروری کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شہر پلوامہ میں ایک خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی۔ اسی حملے کے بعد بھارت نے 26 فروری کو پاکستانی علاقے بالاکوٹ کے قریب ایک فضائی کارروائی کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس حملے کا نشانہ وہاں موجود جیش محمد کا تربیتی مرکز تھا۔ تاہم پاکستانی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی طیاروں نے ایک ویران جگہ پر بم گرائے اور اس حملے میں کوئی فرد ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

اس حملے کے اگلے ہی روز یعنی 27 فروری کو پاکستان لڑاکا طیاروں نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کارروائی کی۔ اسی دن پاکستانی فضائی حدود میں ایک بھارتی لڑاکا طیارے کو مار گرایا گیا اور ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم دو روز بعد ہی اس پائلٹ کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اس اقدام کا مقصد خیر سگالی اور امن کا پیغام دینا قرار دیا۔

Pakistan India

پاکستان میں گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو یکم مارچ کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا

بھارتی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ابھی نندن نے ایک پاکستانی ایف 16 طیارے کو مار گرایا تھا مگر پاکستان نے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا تھا۔ چند روز قبل ایک امریکی اخبار نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ امریکی حکام نے پاکستان میں موجود ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہے جو تعداد میں پورے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پاکستان میں جارحیت کا جواز تلاش کرنے کے لیے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کی طرز کا کوئی اور واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:03

’پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں امریکا نے مثبت کردار ادا کیا‘

DW.COM

Audios and videos on the topic