پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں ثالثی پر بھارت ناراض کیوں؟
11 اپریل 2026
بھارت ایک عرصے سے اپنی سفارتی پالیسی کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر سامنے آنا اس پالیسی کے برعکس سمجھا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک، جو کبھی ایک ہی ریاست کا حصہ تھے، برصغیر کی تقسیم کے بعد سے مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ سن 1947 کے بعد سے اب تک وہ چار بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور سرحدوں پر متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
مئی 2025 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے، جس کے نتیجے میں سرحد پار ڈرون اور میزائل حملے بھی دیکھنے میں آئے۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جس کی اسلام آباد بارہا تردید کرتا آیا ہے۔
اس دوران بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو ایک عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، کم از کم اندرونِ ملک۔ ایسے میں روایتی حریف پاکستان کا ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرنا بہت سے لوگوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
حتیٰ کہ وہ حلقے بھی جو مودی کے ''وشوگرو‘‘ (دنیا کا استاد) کے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، اسلام آباد کا سفارتی کردار بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے اس صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار مودی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔
اپوزیشن کے بیان میں کہا گیا، ''حکومت کی نااہلی نے پاکستان کو ایشیا میں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں اہم کردار حاصل کرنے کا موقع دیا، جس سے اسے بھارت کے خلاف دوطرفہ معاملات میں تیسرے فریق کے ذریعے برتری حاصل ہو سکتی ہے اور یوں بھارت-پاکستان معاملات کو بین الاقوامی رنگ دیا جا رہا ہے۔‘‘
مودی کے ایک ممتاز ناقد اور اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ''ہماری خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''ایک وقت تھا جب لگتا تھا کہ بھارت دنیا کا رہنما بنے گا، لیکن اب پاکستان عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط کر رہا ہے جبکہ بھارت کمزور دکھائی دے رہا ہے۔‘‘یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتوں سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے بعد پاکستانی کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات ایک مشکل سال سے گزرے ہیں۔
اگرچہ نئی دہلی اور واشنگٹن دونوں ممالک تجارت، سکیورٹی، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی شراکت دار ہیں، لیکن متعدد سفارتی تنازعات، جیسے امریکی تجارتی محصولات، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کروایا اور نئی دہلی کے روس کے ساتھ تعلقات نے بھارت کی سفارتی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اس معاملے پر اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب میں پہلے حکومت کا دفاع کیا تھا۔ انہوں نے ایک آل پارٹیز اجلاس میں پاکستان کو ''دلال‘‘ قرار دیا تھا، جو بظاہر ثالث کے معنی رکھتا ہے مگر منفی مفہوم بھی رکھتا ہے۔
حال ہی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، ''جیسا کہ ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں، کشیدگی میں کمی، مکالمہ اور سفارت کاری ہی جاری تنازعہ کے جلد خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔