پاکستان کو جانے والے دریاؤں کا پانی روک دیں گے، بھارت | حالات حاضرہ | DW | 22.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کو جانے والے دریاؤں کا پانی روک دیں گے، بھارت

بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی علاقے میں جانے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کے حصے کا پانی روک دے گا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ قدم پلوامہ میں ہونے والے خودکش کار بم حملے کی سزا کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔

بھارت نے کہا ہے کہ وہ بھارتی زیر انتظام کشمیر سے پاکستانی سر زمین کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو جانے والا پانی روک دے گا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارت کا استدلال ہے کہ یہ قدم بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والےایک  خودکش کار بم حملے کی سزا کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔ 14 فروری کو ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

بھارت کے واٹر ریسورس منسٹر نیتن گڈکاری کے مطابق پاکستان جانے والے تین مختلف دریاؤں سے اپنے حصے کے غیر استعمال شدہ پانی کو روک کر اسے مختلف بھارتی ریاستوں کو فراہم کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق  20 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک پاکستان کو جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، اس بات کا خدشہ ہے کہ بھارت 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ ورلڈ بینک کی طرف سے کرائے جانے والے اس معاہدے کے تحت بھارت سے پاکستان کو جانے والے تین دیگر دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا اور بھارت اس کو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں تاہم اس معاہدے پر ابھی تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔

نیتن گڈکاری نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ’’ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے حصے کا پانی جو پہلے پاکستان کی طرف بہہ رہا ہے اسے روکا جائے۔ ہم مشرقی دریاؤں سے پانی کو روک کر اسے جموں و کشمیر اور پنجاب میں اپنے لوگوں کو مہیا کریں گے۔‘‘

Nitin Gadkari Bharatiya Janata Partei (AP)

نیتن گڈکاری نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ’’ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے حصے کا پانی جو پہلے پاکستان کی طرف بہہ رہا ہے اسے روکا جائے۔‘‘

پلوامہ حملے کے بعد سے بھارتی حکومت پر عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کر کے پاکستان کی طرف بہنے والے تمام دریاؤں کا پانی روک لے۔ بھارتی حکومت پاکستان پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسندوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتی ہے تاہم پاکستان ان الزامات کو رد کرتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری علیحدگی پسندوں کی محض اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔ پاکستان بھارت پر الزام عائد کرتا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں تعینات اس کی سات لاکھ کے قریب فوج وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔

ا ب ا / ع ح ( ایسوسی ایٹڈ پریس)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات