پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے مزید چار ماہ کی مہلت | حالات حاضرہ | DW | 18.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)

پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے مزید چار ماہ کی مہلت

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اعلان کے مطابق پاکستان کو آئندہ سال فروری 2020ء تک گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر اقدام نہ لیے تو بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

آج جمعہ اٹھارہ اکتوبر کو پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے اسلام آباد حکومت کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد  پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف: 'پاکستان فروری تک گرے لسٹ میں رہے گا،‘ ذرائع

ٹاسک فورس نے اپنے  فیصلے میں کہا ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے پاکستان کو فروری 2020ء  تک کی مزید مہلت دی جا رہی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے لیے یہ مہلت عارضی سکون ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کی بدحال معیشت کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔

پاکستان گرے لسٹ میں برقرار، فروری 2020ء  تک ڈیڈ لائن

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے ہیڈکوارٹرز میں کیے گئے اعلان میں پاکستان کی جانب سے  انسداد اور دہشت گردوں کی مالیاتی وسائل تک رسائی کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ٹاسک فورس کے صدر  ژیانگمن لوئی کے بقول، پاکستان کے اقدامات کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی ستائیس تجویزات میں سے صرف پانچ پر کام کیا ہے۔ لوئی نے مزید کہا کہ پاکستان کو رقوم کی منتقلی کا سراغ لگانے اور تحقیقات کے لہے مزید اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مالی معاونت کاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی ہوگی۔

اجلا س کے بعد نیوز کانفرنس میں ایف اے ٹی ایف کے صدر ژیانگمن لوئی نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان منی لانڈرنگ روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تسلی بخش اقدامات میں ناکام رہا، تو اسے ممکنہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جس کے مطابق ٹاسک فورس عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری یا کاروبار کرنے پر تنبیہ جاری کر سکتی ہے۔ ماہرین کے خیال میں بلیک لسٹ ہو جانے کی صورت میں 'آئی ایم ایف،‘ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک جیسے اداروں پر پاکستان کو قرضہ فراہم کرنے پر پابندی عائد ہوجائے گی۔

قبل ازیں رواں برس اگست میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی)  نے تکنیکی خامیوں کی بنا پر پاکستان کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ پاکستان ہر تین ماہ بعد اے پی جی کو اپنی کارکردگی سے متعلق رپورٹ دینے کا پابند ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی شرائط: حکومتی اقدامات میں تیزی

چھتیس ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے۔  واضح رہے اس گروپ کی بلیک لسٹ میں صرف ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

ع آ / ع ق (روئٹرز / اے پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic