پاکستان، کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی | صحت | DW | 23.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پاکستان، کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی

پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جہاں کورونا وائرس کیسز کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہو گئی ہے جبکہ گنجان آباد شہری علاقوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کو پاکستان میں پندرہ سو نئے کورونا کیسز سامنے آئے اور اس طرح پاکستان میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ تقریبا دو سو بیس ملین آبادی والے اس جنوب ایشیائی ملک میں کورونا وائرس سے اب تک قریب 23 سو افراد ہلاک ہو  چکے ہیں۔ یورپی ممالک کے برعکس پاکستان کا نظام صحت بھی کمزور ہے اور ہسپتالوں میں زیادہ مریضوں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کراچی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ اب ہسپتالوں نے نئے آنے والے مریضوں کو داخل کرنا بند کر دیا ہے۔

ڈیلٹا وائرس کی پریشانی

پاکستانی ہیلتھ چیف فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ حکام کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کی وجہ سے پریشان ہیں اور ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے دوران ڈیلٹا وائرس مزید تباہی مچا سکتا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر

ڈیلٹا ویریئنٹ سب سے پہلے ہمسایہ ملک بھارت میں دریافت ہوا تھا اور تیزی سے پھیلنے والے اس ویریئنٹ نے وہاں کے نظام صحت کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ بھارت میں کئی ملین اس وائرس سے متاثر ہوئے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مریض سڑکوں پر ہی دم توڑتے رہے۔

ڈیلٹا ویریئنٹ پہلے ہی پاکستانی نظام سحت پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں زیاددہ تر یہی ڈیلٹا ویریئنٹ ہی مل رہا ہے۔

ویکسنیشن کا عمل سست

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) سے وابستہ ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ویکسینشن کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

ابھی تک تقریبا بیس ملین افراد کو ہی کورونا وائرس کے خلاف پہلا ٹیکا لگایا گیا ہے۔ ملک کی آبادی کے لحاظ سے یہ تعداد ایک بہت ہی چھوٹا حصہ بنتی ہے۔ پاکستانی حکام بین الاقوامی مارکیٹ میں ویکیسن کی عدم دستیابی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلوبل ڈسٹربیوشن سسٹم  'کوویکس‘ کی وجہ سے بھی ویکسینز کی فراہمی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔

ا ا / ع ح (روئٹرز، ڈی پی اے)