پاکستان: کوئی واٹر پالیسی نہیں | معاشرہ | DW | 22.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: کوئی واٹر پالیسی نہیں

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو صاف پانی کی محرومی کا سامنا ہے۔ پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے شکار اس ملک کے پاس ابھی تک پانی کے حوالے سے کوئی قومی پالیسی نہیں ہے۔

پانی کے امور پر تحقیق کرنے والے ادارے حصار فاؤنڈیشن کی سربراہ سیمی کمال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے ادارے نے اپنے تھنک ٹینک کے ذریعے پاکستان کی واٹر پالیسی کا ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے اور اس مسودے پر ماہرین کی رائے لی جا رہی ہے اور اسے اگلے مہینے حکومت کو پیش کر دیا جائے گا۔ ان کے بقول چند دہائیوں پہلے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ پاکستان کو پانی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہاں کے ایک اچھے ہوٹل میں پانی کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت ایک لیٹر پٹرول کی قیمت سے بھی بڑھ جائے گی۔ " پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار پانی پر ہے اور بدقسمتی سے پانی کا مسئہ حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ہے۔‘‘

ایک سماجی کارکن شاہنواز خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ صرف چولستان، تھر اور پہاڑی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ کراچی جیسے شہر میں بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول ضلح خوشاب کی یونین کونسل گولے والا کے گاؤں مہوڑیاں والا میں پاکستان کے کئی دوسرے علاقوں کی طرح آج بھی جانور اور انسان ایک ہی ذخیرے سے پانی پیتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے سارے ارکان قومی اسمبلی مسلم لیگ نون کے جیتے ہوئے ہیں۔

کنزیومر رائیٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کا ہر پانچواں بچہ آلودہ پانی اور ناقص خوراک کی وجہ سے مختلف طبی بیماریوں کا شکار ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کا مسئلہ آنے والے دنوں میں شدت اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے ملک کے 23 شہروں سے پانی کے جو نمونے حاصل کیے ہیں ان کے مطابق ان میں بیماری کا باعث بننے والے مضر صحت اجزاء پائے گئے ہیں۔ اس ادارے نے 2010 ء تک مکمل کی جانے والی فراہمی آب کی 3200 سکیموں کا معائنہ مکمل کیا ہے۔ ان میں سے 35 فی صد سکیمیں وسائل کی کمیابی کی وجہ سے نان فنکشنل ہیں، 20 فی صد سکیموں میں واٹر ٹریٹ منٹ پلانٹ ہی نہیں ہے جبکہ 72 فی صد سکیموں کے ذریعے عوام کو ملنے والا پانی آلودگی کی وجہ سے پینے کے قابل نہیں ہے۔

کئی علاقوں سے پینے کے پانی کے سیوریج کے پانی سے مل جانے اور پائپوں میں لگا زنگ پانی میں مل جانے کی شکایات بھی سننے میں آتی رہتی ہیں۔

ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے پاکستان میں منگل کے روز بہت سی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلے میں لاہور واپڈا ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانچ فیصد پانی گھریلو صارفین، پانچ فیصد صنعتی صارفین اور بقیہ نوے فیصد پانی زرعی شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے۔۔ سندھ کی ایک یونیورسٹی کی طرف سے کی جانے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایک کاشتکار کی فی ایکڑ لاگت پیداوار 25000 روپے کے قریب ہوتی ہے لیکن اس میں پانی کا خرچہ صرف 53 روپے ہوتا ہے، اس لیے اس پانی کا استعمال محتاط طریقے سے کرنے کی فکر عام طور پر نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس کی پراپر پرائسنگ کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دریاؤں میں پانی کا اسی فیصد بہاؤ اپریل اور اگست کے صرف 100 دنوں تک رہتا ہے باقی بیس فیصد پانی سال کے باقی 265 دنوں میں بہتا ہے۔ ان کے بقول مصر میں پانی ذخیرہ کر سکنے کی صلاحیت 1000 دنوں تک کی ہے جبکہ امریکا میں 900 دنوں کی، آسٹریلیا میں 600 دنوں کی، جنوبی افریقہ میں 500 دنوں کی، بھارت میں 170 دنوں کی اور پاکستان میں کیری اوور کیپیسٹی صرف 30 دنوں تک کی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں ہونے والی کمی، اس پانی کے آلودہ ہونے، پانی ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولتیں اور پانی کا بے تحاشا ضیاع اہم مسائل ہیں۔ ان کے بقول دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان بہت زیادہ پانی استعمال کرنے والی گنے اور چاول کی فصلیں اگا کر برآمد بھی کرتا ہے۔ گاڑی دھونی ہو یا نہانا ہو پانی کے استعمال میں احتیاط کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔

پانی کے امور کی ایک ماہر زوفین ابراہیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں پانی کے مسائل بھی سیاست کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں۔ زراعت کے فرسودہ طریقے بدل کر پانی کے محتاط استعمال والے جدید طریقے نہیں اپنائے گئے۔ ان کے بقول پاکستان میں پانی کے محتاط استعمال کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم چلانے کی شدید ضرورت ہے۔

ملتے جلتے مندرجات