پاکستان کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی فوج نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے اپنے ایک اور بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ شدید کشیدگی کے موجودہ دور میں اس میزائل کی رات کے وقت ’ٹریننگ لانچنگ‘ آج جمعرات انتیس اگست کو کی گئی۔

ملکی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اس بیلسٹک میزائل پر کوئی بھی وار ہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے اور زمین سے زمین تک یہ میزائل 290 کلومیٹر یا 180 میل کے فاصلے تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس بارے میں ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ''پاکستان نے گزشتہ رات اپنی ایک تربیتی لانچنگ کے دوران غزنوی کہلانے والے ایک ایسے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جو کئی طرح کے وار ہیڈز کو لے کر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘

یہ نیا میزائل تجربہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب جنوبی ایشیا کی دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے مابین بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر سے متعلق مودی حکومت کے پانچ اگست کے فیصلےکے بعد سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

نئی دہلی میں مودی حکومت نے اس ماہ کے اوائل میں جموں کشمیر کی منقسم اور متنازعہ ریاست کے اپنے زیر انتظام حصے کی بھارتی آئین کے مطابق خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ جموں کشمیر کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک لداخ ہو گا اور دوسرا جموں کشمیر اور یہ دونوں حصے اب بھارت کے یونین علاقے ہوں گے۔

پاکستان میں مودی حکومت کے اس فیصلے پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد نے بھارت کے ساتھ اپنے تمام تجارتی اور ٹرانسپورٹ رابطے بھی منقطع کر دیے ہیں اور اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو بھی ملک سے نکالا جا چکا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس فیصلے کے بعد سے گزشتہ تین ہفتوں سے بھی زائد عرصے سے نہ صرف مکمل سکیورٹی لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے بلکہ وادی کے باقی ماندہ دنیا سے رابطے بھی تقریباﹰ منقطع ہی ہیں۔

بھارتی حکومت نے پانچ اگست کو اپنے جموں کشمیر سے متعلق فیصلے کے اعلان سے قبل وہاں ہزاروں کی تعداد میں اضافی سکیورٹی دستے بھی بھیج دیے تھے۔ ان اضافی دستوں کے وہاں بھیجے جانے سے پہلے بھی جموں کشمیر میں گزشتہ کئی عشروں سے لاکھوں بھارتی سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

م م / ع ا / روئٹرز

DW.COM