پاکستان نے چار مغوی ایرانی سکیورٹی اہلکار بازیاب کرا لیے | حالات حاضرہ | DW | 21.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان نے چار مغوی ایرانی سکیورٹی اہلکار بازیاب کرا لیے

ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان سے گزشتہ برس 15 اکتوبر کو اغوا ہونے والے بارہ ایرانی سرحدی محافظوں میں سے مزید 4 اہلکاروں کو پاکستانی صوبہ بلوچستان میں ایک فوجی کارروائی کے دوران بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

بازیاب ہونے والے چاروں اہلکاروں کو ضروری کارروائی کے بعد تفتان میں ایرانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ان اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مذکورہ مغوی اہلکاروں میں سے پہلے ہی 5 اہلکاروں کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال پندرہ نومبر کو پاک ایران سرحد کے قریب ایک آپریشن کے دوران بازیاب کرایا تھا۔ ان دونوں کارروائیوں کے دوران اب تک کوئی اغوا کار گرفتار نہیں ہوسکا ہے۔

بارہ مغوی ایرانی اہلکاروں میں سے نو اہلکاروں کی رہائی کے بعد اب مزید تین اہلکار تاحال عسکریت پسندوں کے قبضے میں بتائے گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب ایران کے بارہ اہلکاروں کے اغوا کی ذمہ داری ایران میں سرگرم شدت پسند تنظیم جیش العدل نے قبول کی تھی۔ اس تنظیم نے مغوی ایرانی اہلکاروں کی رہائی کے لیے حکومت ایران کو مختلف مطالبات بھی پیش کیے تھے۔

ان مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ایرانی حکومت ملک کے مختلف جیلوں میں قید ان ایرانی بلوچوں کو رہا کیا جائے، جن کے خلاف اس وقت مختلف الزامات کے تحت مقدمات مقامی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

چند دن قبل شدت پسند تنظیم جیش العدل نے مغوی ایرانی اہلکاروں کا ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں مغوی اہلکاروں کو اپنے اہل خانہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مغوی اہلکار ویڈیو پیغام میں حکومت سے اپنی رہائی کے لیے اقدمات کی درخواست کرتے دکھائے گئے تھے۔

مغوی ایرانی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے جاری کوششوں کے دوران پاسداران انقلاب ایران کے سربراہ بریگیڈیر جنرل پاکپور نے گزشتہ سال بائیس اکتوبر کو پاکستان کا خصوصی دورہ بھی کیا تھا۔

اس دورے کے دوران آئی آر جی سی کے سربراہ نے پاکستان سے ان اہلکاروں کی بازیابی کے لیے معاونت کی درخواست کی تھی۔

قبل ازیں مغوی ایرانی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی دو بار پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ ایرانی صدر نے پاک ایران سرحد پر فعال شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا تھا۔

پاک ایران سرحدی علاقے تفتان میں تعینات ایک سینیئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار راشد سہیل کہتے ہیں کہ چار مغوی ایرانی اہلکاروں کی بازیابی، ضلع چاغی میں پاک افغان سرحد کے قریب ایک کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’’یہ اہم پیش رفت ہے جو چار اہلکار بازیاب کرائے گئے ہیں انہیں اغوا کار پاک افغان سرحد پر اپنے کسی خفیہ ٹھکانے پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چاغی کے جنوب مغربی حصے اموری میں اغوا کاروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ اغوا کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مغویوں کو ویرانے میں چھوڑ دیا اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔‘‘

راشد سہیل نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی حدود میں سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اس لیے شدت پسند یہاں اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پاک ایران سرحد کے قریب پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات سے کئی غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے۔ بعض قوتیں یہاں شورش پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ امن دشمن عناصر پاک ایران برادرانہ تعلقات میں دراڑ پیداکرنا چاہتے ہیں مگر اب تک انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔‘‘

پاک ایران سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان نے پاک ایران سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کی باقاعدہ حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے۔

پاکستانی فوج کے سدرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے تین یوم قبل کوئٹہ میں ایک کانفرنس سے خطاب میں بتایا تھا کہ پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کا کام اگلے ہفتے سے شروع کیا جائے گا۔ باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کا بنیادی مقصد سرحد کو محفوظ بنانا ہے تاکہ قیام امن کو ہر حوالے سے یقینی بنایا جا سکے۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر ساجد احمد کے بقول چار ایرانی سرحدی محافظوں کی بازیابی پاک ایران تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے خاتمے میں معاون ثابت ہو گی۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''موجودہ حالات کا اگر زمیی حقائق کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا کہ پاک ایران تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے کے لیے ایک منظم سازش کار فرما ہو سکتی ہے۔ اس خطے میں سلامتی کے لیے پاک ایران بہترتعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان دو طرفہ تعلقات میں سرد مہری سے بعض قوتیں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ ایران مخالف عناصر یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ایران سے اچھے تعلقات استوار کرے۔‘‘

ڈاکٹر ساجد احمد نے بتایا کہ پاک ایران سرحد پر باڑ لگانا ایک احسن قدم ہے جس کا فائدہ دونوں ممالک کو پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پاک ایران طویل سرحد پر غیرقانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات بہت ضروری ہیں۔ اس وقت غیر ریاستی عناصر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی شورش پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں ایک دوطرفہ جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔‘‘

ڈاکٹر ساجد کا کہنا تھا کہ پاک ایران تعلقات میں اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے اور ماضی میں بھی ان تعلقات میں بہتری کے حوالے سے دو طرفہ سفارتی کردار اہم رہا ہے۔

ایران سے اغواء ہونے والے سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چند یوم قبل بھی پاک ایران سرحدی علاقوں میں سرچ آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران بعض مشتبہ افراد بھی گرفتار کیے گئے تھے تاہم ان افراد کی گرفتاری کے حوالے سے صوبائی یا مرکزی سطح پر مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

DW.COM