پاکستان نے بھارتی صدر کو اپنی فضائی حدود کے استعمال سے روک دیا | حالات حاضرہ | DW | 07.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان نے بھارتی صدر کو اپنی فضائی حدود کے استعمال سے روک دیا

پاکستان نے ہفتہ سات ستمبر کو بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عام طور پر یہ اجازت دے دی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ اس انکار کی وجہ نئی دہلی کا حالیہ ’رویہ‘ بتایا گیا ہے۔

بھارتی صدر رام ناتھ کووند

بھارتی صدر رام ناتھ کووند

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی صدر نے اپنے ایک بیرون ملک ہوائی سفر کے لیے پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرنا تھا اور اس کے لیے پاکستان سے باقاعدہ اجازت کی درخواست کی گئی تھی۔ پاکستان نے تاہم یہ اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کا سبب نئی دہلی حکومت کا حالیہ 'رویہ‘ بتایا گیا ہے۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''یہ فیصلہ نئی دہلی حکومت کے حالیہ رویے کی وجہ سے کیا گیا۔‘‘ اسلام آباد حکومت نے بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا ہے، جب دونوں حریف ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتہ سات ستمبر کو اپنے ایک بیان میں کوئی تفصیلات بتائے بغیر بس اتنا ہی کہا، ''بھارتی صدر کی طرف سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ آئس لینڈ جاتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرنا چاہتے تھے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین یہ کشیدگی یوں تو اس سال موسم بہار میں بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں پلوامہ میں کیے جانے والے ہلاکت خیز بم حملے کے فوراﹰ بعد سے بھی پائی جاتی تھی لیکن اس میں مزید اضافہ اس وقت ہوا تھا، جب پانچ اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اس متنازعہ خطے کے بھارت کے زیر انتظام حصے کو مزید دو حصوں (لداخ اور جموں کشمیر) میں تقسیم کر کے انہیں بھارت کے یونین علاقے بنا دیا جائے گا۔

پاکستان نے اس سال فروری میں بھی بھارت کے ساتھ عسکری کشیدگی اور دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف فضائی کارروائیوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو ہر قسم کی بھارتی فضائی ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا۔ یہ فضائی حدود بھارتی سویلین ایئر ٹریفک کے لیے ابھی جولائی میں ہی دوبارہ کھولی گئی تھیں۔

پاکستان کی طرف سے چند روز قبل یہ بھی کہا گہا تھا کہ وہ ہر قسم کی بھارتی فضائی ٹریفک کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دینے پر غور کر رہا تھا۔ ابھی تک اسلام آباد نے ایسا کوئی باقاعدہ فیصلہ نہیں کیا اور پھر آج ہفتے کے روز بھارتی صدر کووند کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

م م / ع ا / اے ایف پی

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات