پاکستان نے افغانستان میں حملے کیے، جواب دیا جائے گا: طالبان
22 فروری 2026
پاکستان نے اتوار کی صبح کہا کہ ملکی فوج نے افغانستانکی سرحد کے قریب کارروائیاں کی ہیں، جن میں اُن پاکستانی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں ملک کے اندر حالیہ حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملے کن علاقوں میں کیے گئے اور نہ ہی مزید تفصیلات فراہم کیں۔
ادھر کابل میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں مجاہد نے کہا کہ یہ حملے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں شہری آبادیوں پر کیے گئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
جواب ضرور دیا جائے گا، افغان طالبان
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے یہ حملے اپنے ملک کی اندرونی سکیورٹی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کیے۔ انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی ضرور کی جائے گی لیکن مناسب وقت کا انتظار کیا جائے گا۔
اتوار کی علی الصبح جاری کیے گئے ایک بیان میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر لکھا کہ فوج نے ''انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی چنیدہ کارروائیوں‘‘ میں پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور ان کے گروہوں کے سات کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں داعش کے ایک گروہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پاکستان نے افغانستان کے اندر دور تک کارروائی کی تھی تاکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا سکے۔تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ’’خطے میں امن و استحکام‘‘ کے لیے کوشش کی ہے لیکن پاکستانی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سکیورٹی پوسٹ کی دیوار سے ٹکرا دی۔ اس حملے کے نتیجے میں گیارہ فوجی اور ایک بچہ مارے گئے تھے۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر ہوئی۔
تازہ سرحدی حملوں سے چند گھنٹے قبل ایک اور خودکش حملہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی قافلے پر کیا گیا، جس میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو فوجی ہلاک ہوئے۔
ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے کے بعد پاک فوج نے سخت بیان میں کہا تھا کہ جو لوگ اس حملے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹھوس شواہد ہیں کہ افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے، پاکستانی وزیر
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے پاس ''ٹھوس شواہد‘‘ موجود ہیں کہ حالیہ حملے افغانستان میں موجود دہشت گرد قیادت اور نیٹ ورکس کے ''احکامات پر‘‘ کیے گئے۔ ان حملوں میں اس ماہ کے آغاز میں اسلام آباد کی شیعہ کمیونٹی کی ایک مسجد پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جس میں 31 نمازی مارے گئے تھے۔
تاڑر نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے قابل تصدیق اقدامات کرے، جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اپیل کے باوجود افغان طالبان نے ''کوئی عملی اقدام‘‘ نہیں لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ طالبان حکام پر دباؤ ڈالے کہ وہ دوحہ معاہدے کی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
پاکستان میں حملوں میں اضافہ
پاکستان میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، جس کا بڑا الزام ٹی ٹی پی اور کالعدم بلوچ علیحدگی پسند گروہوں پر لگایا جا رہا ہے۔
ٹی ٹی پی اگرچہ افغانستان کی طالبان حکومت سے الگ تنظیم ہے مگر اس سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر سے کام کر رہی ہے لیکن یہ گروہ اور کابل دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ اکتوبر کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ تاہم قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے لیکن استنبول میں ہونے والی بات چیت کسی باضابطہ معاہدے تک نہ پہنچی اور دونوں ممالک کے تعلقات اب بھی تناؤ کا شکار ہیں۔