پاکستان میں ہولی سادگی سے منانے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 20.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں ہولی سادگی سے منانے کا فیصلہ

دنیا کے دیگر ممالک میں بسنے والے ہندؤوں کی طرح پاکستان کی ہندو برادری بھی آج ہولی کا تہوار منار رہی ہے مگر کرائسٹ چرچ واقعے کے باعث مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اس برس ہولی قدرے سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کراچی میں ہولی کی سب سے بڑی تقریب ایم اے جناح روڈ پر واقع سوامی نارائن مندر کے اطراف آباد بستی میں منعقد ہوئی، جہاں ہولی کے رنگوں اور دیگر اشیا کی فروخت کے لیے بچوں نے خصوصی اسٹال لگا رکھے تھے۔ زرق برق ملبوسات میں ملبوس خواتین اور لڑکیاں ایک دوسرے کو رنگ لگاتے رہے جبکہ نوجوان لڑکے ایک دوسرے پر رنگین پانی سے بھری تھیلیاں اچھال کر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ مٹھائی سے بزرگوں کا منہ میٹھا کرایاگیا۔

سوامی نارائن مندر میں عبادت کے لیے آئے ہوئے لوگوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور وہ بغیر کسی روک ٹوک اپنے عقائد پر عمل پیرا ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والی رکن سندھ اسمبلی منگلہ شرمہ کہتی ہیں،’’گزشتہ کئی سالوں میں دہشت گردی کے باعث کچھ خوف تھا لہذا سیکورٹی اقدامات کافی سخت ہوتے تھے لیکن اب ایسا کوئی خوف نہیں۔‘‘

ہندو عقائد کے مطابق موسم بہار کے آغاز کو خوش آمدید کہنے کے لیے منایا جانے والا تہوار ہولی دراصل سنسکرت زبان کے لفظ ’ہولیکا‘ سے ماخوز ہے، جس کے معنٰی اچھی فصل پر مالک کائنات کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

ہولی کا تہوار دو دن پر محیط ہوتا ہے۔ پہلے دن مندروں میں عبادات کی جاتی ہیں، جس میں ہر عمر کے مرد و خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں جبکہ دوسرے روز ہولی منائی جاتی ہے اور لوگ ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں۔

کراچی میں ہندووں کی آبادی لاکھوں نفوس پر مشتمل ہے، جس میں بڑے پیمانے پر تجارت کرنے والے گھرانے بھی شامل ہیں اور انتہائی نچلے درجے کی ملازمتیں کرنے والے افراد بھی۔ یہ سب اپنے اپنے انداز میں گھروں اور آبادیوں میں بننے مندروں میں عبادات بھی کرتے ہیں اور ہولی بھی کھیلتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز اقلیتی ونگ کے مرکزی رہنما شام سندر اڈوانی کہتے ہیں،’’دنیا پاکستان میں غیر مسلموں کے حوالے سے منفی پروپگنڈے سے متاثر ہے۔ ہولی ہو یا دیوالی، دسیرا ہو یا بےساکھی یا پھر ایسٹر اور کرسمس سب تہورا مکمل آزادی سے منائے جاتے ہیں بلکہ مسلمان خود بھی ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ نواز شریف پاکستان کے وہ وزیر اعظم ہیں، جنہوں نے سن 2015 میں دیوالی اور سن 2017 میں ہولی کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔‘‘

وزیر اعظم عمران خان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے ہندو برادری کو ہولی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہولی کا تہوار امن و محبت کا درس دیتا ہے۔

رفعت سعید، کراچی

ویڈیو دیکھیے 00:59

بھارت میں رنگوں کا میلہ ہولی

DW.COM

Audios and videos on the topic