1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

پاکستان میں نجکاری: حکومت کے لیے راحت، شہریوں کے لیے ’آفت‘؟

31 مئی 2026

پاکستان نے بارہا نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کو بحال کرنے کے لیے نجکاری کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن کیا عوام کے لیے سرکاری اثاثوں کی فروخت نے بہتر نتائج دیے ہیں، یہ اب بھی ایک متنازع موضوع ہے۔

https://p.dw.com/p/5ELO4
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ایک طیارہ
حالیہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے معاملے نے شدید تنقید کو جنم دیا، جہاں مخالفین نے قیمت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائےتصویر: Rafat Saeed/DW

پاکستان میں نجکاری کی حمایت کرنے والے کہتے ہیں کہ نجکاری کے بعد سرکاری مالی بوجھ میں کمی آئی اور کارکردگی بہتر ہوئی۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ خاص طور پر سروس کے شعبوں میں نجکاری عوامی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جب تک حکومت مضبوط ریگولیشن نہ کرے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی نہ بنائے۔

پاکستان میں کون سے ادارے بیچے گئے اور کیا فائدہ ہوا؟

پاکستان میں نجکاری کا آغاز 1992 میں ہوا، جب حکام نے صنعت، بینکنگ اور سرکاری اداروں میں ریاست کے کردار کو کم کرنے کے لیے وسیع پروگرام شروع کیا۔ آنے والی دہائیوں میں درجنوں سرکاری ادارے، جن میں بینک، فیکٹریاں، توانائی کے اثاثے اور ٹیلی کام کمپنیاں شامل تھیں، فروخت یا جزوی طور پر نجی شعبے کے حوالے کیے گئے۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ان اقدامات سے نقصانات کم ہوں گے، نجی سرمایہ کاری آئے گی اور کارکردگی بہتر ہوگی۔

یہ عمل اکثر متنازع رہا ہے۔ حالیہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے معاملے نے شدید تنقید کو بھی جنم دیا، جہاں مخالفین نے قیمت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ اس سے پہلے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی بڑی فروخت بھی ہوئی۔ کچھ مبصرین نجکاری کو ضروری اصلاحات قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ کیا عوامی مفادات کا مناسب تحفظ کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن مجموعی طور پر نجکاری کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نہ تو کاروبار چلا سکتی ہے اور نہ اسے چلانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں، "پی آئی اے کی کم قیمت پر نجکاری پر تنقید کی جاتی ہے، لیکن اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ اسے ایک روپے میں بھی فروخت کر دیتے، کیونکہ سرکاری خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا، جو اب رک گیا ہے۔"

ڈاکٹر اشفاق نے یونائیٹڈ بینک اور مسلم کمرشل بینک کو کامیاب نجکاری کی مثالیں قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ادارے پہلے قومی خزانے پر بوجھ تھے لیکن اب نجی ملکیت میں منافع بخش ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری: عارف حبیب سے خصوصی گفتگو

نجکاری میں مسائل کیا ہیں؟

تاہم دیگر ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ نجکاری کے ساتھ مضبوط ریگولیشن اور سخت نگرانی بھی ضروری ہے، ورنہ خدشہ ہے کہ اثاثے صرف نکالے جائیں یا ایسے طریقے سے استعمال ہوں جو عوامی مفاد میں نہ ہوں۔ ایک ناقد نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اثاثے ایسے افراد کے حوالے نہیں کیے جانے چاہییں جو صرف جائیدادیں ہڑپ کرنا چاہتے ہوں اور پھر انہیں فروخت کر دیں۔ ان کے مطابق اگر مقصد صرف زمین بیچنا ہو تو بہتر ہے کہ حکومت خود کاروبار بند کر کے زمین فروخت کر دے۔

ماہرِ معاشیات قیصر بنگالی نے 1990 کی دہائی کی نجکاری یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1992 میں تقریباً سو صنعتیں نجی شعبے کے حوالے کی گئیں۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ ہوتا رہا ہے کہ ان میں سے کئی ادارے بالآخر بند ہو گئے اور ان کی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنا دی گئیں، جو نجکاری کا مقصد نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ نجکاری کو مؤثر اور مضبوط ریگولیٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے، ورنہ اس کی افادیت محدود رہتی ہے، خاص طور پر سروس سیکٹر میں۔

قیصر بنگالی نے بجلی اور ٹیلی کام کی مثالیں بھی دیں۔ ان کاکہنا تھا، "کراچی الیکٹرک کمپنی کی نجکاری کے بعد کراچی کے کئی علاقوں میں چھ سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، تو اس نجکاری کا فائدہ کیا ہے؟ ان کے مطابق نقصانات تو رک گئے، لیکن صارفین کا تحفظ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قیصر بنگالی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی فروخت میں پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خریدار کو حکومت کو 800 ملین ڈالر ادا کرنے تھے جو تاحال ادا نہیں کیے گئے۔

ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ نجکاری کے ساتھ مضبوط ریگولیشن اور سخت نگرانی بھی ضروری ہے، ورنہ خدشہ ہے کہ اثاثے صرف نکالے جائیں یا ایسے طریقے سے استعمال ہوں جو عوامی مفاد میں نہ ہوں
ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ نجکاری کے ساتھ مضبوط ریگولیشن اور سخت نگرانی بھی ضروری ہے، ورنہ خدشہ ہے کہ اثاثے صرف نکالے جائیں یا ایسے طریقے سے استعمال ہوں جو عوامی مفاد میں نہ ہوںتصویر: Reuters/A. Soomro

حکومت اب کون سے اداروں کی نجکاری کرنے جا رہی ہے؟

نجکاری ایک بار پھر بحث میں آ گئی ہے کیونکہ حکومت نے حال ہی میں تین بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے علاقوں کی، فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لائن لاسز کم کرنے، بلوں کی وصولی بہتر بنانے اور پاکستان کے مشکل توانائی شعبے کی مجموعی کارکردگی بڑھانے کے لیے نجکاری بہترین راستہ ہے۔

لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نجکاری اکیلے بجلی چوری ختم نہیں کر سکتی اور نہ ہی ریاست کے کردار کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے ماہر اور سابق پیپکو سربراہ طاہر بشارت چیمہ کہتے ہیں کہ نجی مالک پولیسنگ کا کام نہیں کر سکتا، جو بجلی چوری روکنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق نجی مالک کا کام نظام کو بہتر بنانا ہے جبکہ چوری کے خلاف کارروائی حکومت کو کرنی ہوتی ہے۔

طاہر چیمہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب ریگولیٹری ڈھانچہ کمزور ہو تو کیا اسٹریٹیجک پاور کمپنیوں کی نجکاری عوامی مفاد میں ہے؟ ان کے مطابق بجلی سروس سیکٹر میں آتی ہے اور کمزور ریگولیٹر کی صورت میں اسے حکومت کے پاس رہنا چاہیے۔ اگر نجکاری کرنی ہو تو حکومت کو ریگولیٹر کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ صارفین کا تحفظ ہو سکے۔

آئی ای ایس سی او کمپنی کا دفتر
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت جن تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کے لیے پیش کر رہی ہے وہ نسبتاً کم نقصانات والی ہیںتصویر: Usman Cheema/DW

چیمہ نے قیصر بنگالی سے اتفاق کیا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے بعد کراچی کے کچھ علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ ہوئی، لیکن ان کے مطابق وہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی سزا نہیں دینی چاہیے بلکہ ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی ہونی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت جن تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کے لیے پیش کر رہی ہے وہ نسبتاً کم نقصانات والی ہیں، جبکہ زیادہ نقصان والی کمپنیاں اس وقت تک فروخت نہیں ہو سکتیں جب تک نظام بہتر نہ بنایا جائے۔ طاہر بشارت چیمہ کے مطابق کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں تقریباً پچاس فیصد نقصانات ہیں اور اسے اس حالت میں کوئی نہیں خریدے گا۔

جب ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے بارے میں سوال کیا گیا تو چیمہ نے بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے معاہدوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی پہلے ہی مہنگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی آئی پی پیز پر انحصار کی وجہ سے سستی بجلی ممکن نہیں رہی۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد کئی ادارے بالآخر بند ہو گئے اور ان کی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنا دی گئیں، جو نجکاری کا مقصد نہیں تھا
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد کئی ادارے بالآخر بند ہو گئے اور ان کی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنا دی گئیں، جو نجکاری کا مقصد نہیں تھاتصویر: Usman Cheema/DW

کیا حکومت نے سولر پالیسی میں حالیہ تبدیلی بجلی سپلائی کمپنیاں بیچنے کے لیے کی ہے؟

یہ بھی ذہن میں رہے کہ حکومت نے حال ہی میں سولر پالیسی میں تبدیلی کی ہے جس کے بعد وہ صارفین کے لیے بہت کم فائدہ مند رہ گئی ہے۔ شک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ایسا بجلی سپلائی کمپنیاں خریدنے والوں کے فائدے کے لیے کیا گیا ہے۔

طاہر چیمہ نے کہا کہ پرانی سولر پالیسی میں خامیاں تھیں کیونکہ صارفین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کو بیک اپ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ان کے مطابق میٹر کے ذریعے بجلی استعمال کی جاتی تھی اور دن میں پیدا ہونے والی بجلی رات کو ایڈجسٹ ہو جاتی تھی، جس سے اکثر بل ادا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل دنیا میں کہیں بھی کام نہیں کر سکتا اور ایسی پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔

ادارت: جاوید اختر