پاکستان میں مزید چار عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں مزید چار عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی

پاکستانی فوج کے مطابق دہشت گردی میں ملوث مزید چار عسکریت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان چاروں مجرمان کو سزائیں فوجی عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی تھیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جن مجرمان کو پھانسی دی گئی، ان کا تعلق پاکستانی طالبان کے زیر اثر کام کرنے والے مختلف ذیلی عسکری گروپوں سے تھا۔ بیان کے مطابق ان مجرموں نے عام شہریوں اور فوجیوں کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے جبکہ ایک مسجد میں بم دھماکا کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کو دس مئی بدھ کے روز پھانسی دی گئی۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق دو ہزار چودہ کے بعد سے اب تک پاکستان میں 432 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان میں سے چالیس کے قریب افراد کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ 2014ء میں پاکستان میں مجرموں کو پھانسی دینے پر عائد پابندی اٹھا لی گئی تھی۔ یہ فیصلہ پشاور میں بچوں کے ایک اسکول پر طالبان عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ طالبان شدت پسندوں کے اس حملے میں تقریباﹰ ایک سو پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر بچے تھے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران مجموعی طور پر پاکستان میں جن مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے، ان میں سے زیادہ تر ایسے تھے، جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے نہ کہ عسکریت پسندی میں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں فوجی عدالتوں کی طرف سے سنائی جانے والی موت کی سزاؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمے بند دروازوں کے پیچھے چلائے جاتے ہیں اور ایسی کارروائیوں کی قانونی شفافیت پر انہیں گہرے تحفظات ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق جن مجرموں کو سزائیں سنائی جاتی ہیں، انہیں ان سزاؤں کے خلاف عدالتی اپیل کا حق بھی ہوتا ہے۔

اشتہار