پاکستان میں لاپتا افراد کی تعداد چھ ماہ بعد صفر ہو گی، فواد چوہدری | حالات حاضرہ | DW | 25.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں لاپتا افراد کی تعداد چھ ماہ بعد صفر ہو گی، فواد چوہدری

پاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے جرمنی کے ڈی ڈبلیو ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ’لاپتا افراد کی تعداد چھ ماہ بعد صفر ہو گی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہے۔

فواد چوہدری، بائیں، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ

فواد چوہدری، بائیں، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ

فواد چوہدری نے ڈی ڈبلیو ٹی وی کے ہفتہ وار پروگرام 'کانفلِکٹ زون‘ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں آج جمعرات پچیس فروری کے روز جن امور پر تفصیلی اظہار خیال کیا، ان میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عمومی صورت حال اور ریاست کی حمایت سے مقامی شہریوں کے اغوا کیے یا جبری طور پر لاپتا ہو جانے کے واقعات سے پیدا شدہ صورت حال بھی شامل تھی۔

'پاکستان دوبارہ نارمل حالات کی طرف جا رہا ہے‘

پاکستانی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی نے ڈی ڈبلیو ٹی وی کے اس پروگرام کی میزبان سارہ کَیلی کو بتایا، ''جب دہشت گردی ان کے ہاں تمام حدیں پار کر گئی، تو یورپی ممالک اور امریکا نے بھی سخت تر اقدامات کیے۔ یہی کچھ پاکستان میں بھی ہوا۔ لیکن اب پاکستان واپس نارمل حالات کی طرف لوٹ رہا ہے۔ آپ کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں لاپتا ہو جانے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد گزشتہ دور میں لاپتا ہوئی تھی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا، ''پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے اقتدار کے ڈھائی برسوں میں یہ تعداد عملاﹰ کم ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ دیکھیں گی کہ آئندہ چھ ماہ میں پاکستان میں لاپتا افراد کی تعداد صفر ہو جائے گی۔ ہم اس ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

'عمران خان حالات کا رخ موڑ چکے ہیں‘

پاکستانی معیشت کی موجودہ صورت حال اور مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا، ''وزیر اعظم عمران خان ملک میں حالات کا رخ عملاﹰ موڑ چکے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی عمران خان کی کابینہ کے اس وزیر نے کہا، ''موجودہ وفاقی حکومت کو ملکی معیشت انتہائی بری حالت میں ملی تھی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 26:06

Fawad Chaudhry on Conflict Zone

کورونا وائرس کی وبا کے موضوع پر اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی فوج نے تو یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے مکمل نفاذ کو اپنی نگرانی میں یقینی بنائے گی مگر اس وبا کے دوران تو ملک میں 'کوئی مکمل لاک ڈاؤن دیکھنے میں نا آیا،‘ فواد چوہدری کا کہنا تھا، ''حکومت کی پالیسیوں کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ فیصلے وزیر اعظم عمران خان کرتے ہیں اور پاکستان آرمی ان کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘‘

کرپشن کے الزامات

پاکستان میں سیاسی اپوزیشن کی طرف سے حکومت میں کرپشن کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے پاکستانی وزیر نے کہا، ''یہ دعوے محض سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے کیا جانے والا پروپیگنڈا ہیں۔ پاکستانی حکومت کی اعلیٰ قیادت میں کرپشن کا کوئی ایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔‘‘

میڈیا کی آزادی

ماضی میں خود بھی ایک صحافی کے طور پر کام کرتے رہنے والے فواد چوہدری سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے، تو انہوں نے کہا، ''پاکستانی ذرائع ابلاغ کی مثال غالباﹰ دنیا بھر میں اس سب سے زیادہ آزاد میڈیا کی ہے، جس کے بارے میں آپ سوچ سکتی ہیں۔ میری رائے میں تو پاکستان میں کوئی میڈیا بلیک آؤٹ نہیں ہے۔‘‘

میڈیا کے آزاد نا ہونے کے بارے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک جج کی طرف سے حال ہی میں دیے گئے ایک بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا، ''ججوں کو ایسے سیاسی بیانات نہیں دینا چاہییں ۔ یہ بہت غیر پیشہ وارانہ بات ہے۔‘‘

م م / ع ح (ڈی ڈبلیو)

ویڈیو دیکھیے 11:20

جرمنی پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، پاکستانی سفیر