پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین ووٹ دینے سے قاصر | وجود زن | DW | 07.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین ووٹ دینے سے قاصر

پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈز ہی نہیں ہیں۔ کئی علاقوں میں تو خواتین کے ووٹ دینے کی شرح تین فیصد سے بھی کم ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سکریڑی بابر یعقوب نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے، ’’کم و بیش 10.1ملین خواتین اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ سماجی اور ثقافتی عناصر ایسے عوامل ہیں، جس کی وجہ سے خواتین اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر پا رہیں ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام رہا ہے اور نادرا نے بھی ہماری اس سلسلے میں مدد کرنے کی حامی بھری ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کی تقریباﹰ نوے تحصیلیں ایسی ہیں، جہاں خواتین رائے دہندگان کی شرح تیس فیصد سے بھی کم ہے۔ شمالی وزیرستان میں یہ شرح صرف 2.89 فیصد ہے۔ شہری علاقوں میں بھی صورتِ حال کوئی بہت امید افزاء نہیں ہے۔ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں خواتین ووٹرز کی شرح 29.89، گڈاپ ٹاون ضلع شرقی میں 31.66 فیصد جب کہ گڈاپ ٹاون ضلع غربی میں38.66 فیصد ہے۔ ملک کے ترانوے ملین رائے دہندگان میں مردوں کی شرح 56.26 فیصد ہے جب کہ خواتین کی شرح43.74 فیصد ہے۔ کئی غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں خواتین آبادی کے اکیاون فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پنجاب کے ایک ایسے گاؤں کا بھی ذرائع ابلاغ نے ذکر کیا تھا، جہاں خواتین نے 1947ء سے ووٹ ہی نہیں ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے کئی علاقوں میں خواتین 2013ء کے عام انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں۔ کچھ علاقوں میں تو سیاسی جماعتوں نے جرگے کر کے یہ فیصلہ کیا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ صوبے کے ایک علاقے کے انتخابات کو الیکشن کمیشن نے اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا کیونکہ وہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تھا۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی میں جینڈر اسٹیڈیز ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ عالیہ امیر علی کا کہنا ہے کہ اس کے عوامل صرف ثقافتی اور سماجی نہیں ہیں،’’تاریخی اور مادی عوامل بھی اس میں کارفرما نہیں ہیں۔ حکومت اس مسئلے کو کیوں حل کرے گی وہ تو خود اس مسئلے کا ایک حصہ ہے۔ آبادی کی اتنی بڑی تعداد اگر انتخابات میں حصہ نہ لے سکے تو اس سے پورے جمہوری نظام پر ہی ایک سوالیہ نشان آجاتا ہے۔ ووٹ ڈالنا جمہوری عمل کا ایک ادنیٰ سا حصہ ہے۔ اگر حکومت خواتین کو وہ حق بھی نہ دلا سکے تو اس کی قانونی حیثیت کا کیا جواز ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’اس میں قصور نادرا کا ہے، جب خواتین اپنا شناختی کارڈ بنوانے جاتی ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے کہ جاؤ نکاح نامہ لے کر آو، پھر فیملی ٹری کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے شادی سے پہلے کیا نام تھا، اس کی پوری تاریخ لے کر آو۔ نادرا پیسے بنانے کی مشین بن چکی ہے۔ ان کو چاہیے کہ موبائل وین لے کر خواتین اسٹاف کے ساتھ دیہی علاقوں میں جائیں اور وہاں اعلان کریں کہ آپ کے ساتھ خواتین اسٹاف ہے، پھر دیکھیں کہ اچھا خاصا فرق پڑے گا۔ قدامت پرست معاشرے میں عورتوں کے لئے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ تصویر کی شرط اور سترہ گریڈ کے سرکاری افسر سے کاغذات کی تصدیق کی شرط بھی شناختی کارڈ کے بننے میں رکاوٹ ہے۔‘‘

جنگ سے تباہ شدہ قبائلی علاقوں میں یہ شرح اور بھی کم ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکڑ سید عالم محسود کاکہنا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی رجعت پسندی نے ووٹ سمیت خواتین کو کئی حقوق سے محروم کیا، ’’جماعتِ اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور تبلیغی جماعت جیسی تنظیموں نے خواتین کو کئی حقوق سے محروم کیا۔ جب تک ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہمارے شانہ بشانہ نہیں ہوں گی، جب تک ہماری خواتین پارلیمنٹ، حکومتی اداروں اور جرگوں میں نہیں ہوں گی، ہم کوئی ترقی نہیں کر پائیں گے۔‘‘

قائدِ اعظم یونیورسٹی کے ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’ سیاسی جماعتوں کو اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنے کارکنان پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ اگلے انتخابات کے لئے زیادہ سے زیادہ خواتین ووٹرز کا اندراج کرائیں، اس سے ان کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ ایک ثقافتی مسئلہ بھی ہے، دیہی اور پسماندہ علاقوں میں مرد خواتین کو باہر نہیں نکلنے دیتے۔ شہری علاقوں میں خواتین باہر نکلتی ہیں لیکن اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کے معاملے میں وہ پیچھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو جمہوری اقدار پر ابھی اتنا بھروسہ نہیں۔ اس بھروسے کو آنے میں وقت لگے گا۔‘‘

اشتہار