پاکستان میں انسداد ملیریا کی کوششوں میں تیزی کی ضرورت | سائنس اور ماحول | DW | 25.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

پاکستان میں انسداد ملیریا کی کوششوں میں تیزی کی ضرورت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد عوام میں ملیریا سے بچاؤ اور اس کے متعلق پیدا شدہ خدشات اور غلط فہمیوں سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔

رواں برس ملیریا سے بچاؤ کا یہ عالمی دن ’’مجھ سے منفی ملیریا کا آغاز‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گزشتہ ایک دہائی سے ملیریا کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

مادہ مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہونے والے اس قابل علاج مگر مہلک مرض کے دنیا بھر میں سالانہ دو سوملین کیس سامنے آتے ہیں۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کی ہی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3.5 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا پاکستان کے لیے دوسری سب سے بڑی وبائی بیماری بن چکا ہے۔ پاکستان میں یہ مرض قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ملیریا کے حوالے سے اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ ہائی رسک بلوچستان میں ہے، کیونکہ بلوچستان میں ملیریا کے کیسز میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ملیریا سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ملک بھر میں دوا لگی مچھر دانیوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ سربراہ انسداد ملیریا پروگرام ڈاکٹر بصیر اچکزئی کے مطابق،’’خیبرپختونخوا کے دس اور بلوچستان کے11اضلاع میں مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم کے دوران 1ارب75کروڑ روپے مالیت سے دوا لگی 34 لاکھمچھردانیاں رواں سال جون میں تقسیم کی جائیں گی اور ان کی تقسیم پر 20 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔‘‘

دوسری جانب ملک کے دیگر صوبے میں بھی ملیریا کے متاثرین کی تشخیص کا عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے صرف صوبہ سندھ میں ہی گزشتہ برس ایک لاکھ سے زائد ملیریا کے کیسز سامنے آئے۔

ملیریا سے بچاؤ اورخاتمے کے حکومتی پروگرام، ملیریا کنٹرول پروگرام سندھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عباس گوپنگ کے مطابق گزشتہ برس ملیریا کے سب سے زیادہ کیس سندھ کے پانچ اضلاع میں سامنے آئے، ’’ملیریا سے سب سے زیادہ متاثر ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، میرپور خاص اور بدین کے اضلاع رہے۔ جبکہ پورے صوبے میں ایک لاکھ آٹھ ہزار دو سو باسٹھ افراد میں ملیریا کی تشخیص ہوئی۔‘‘

ڈاکٹر عباس گوپنگ کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں کی بنسبت کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری اداروں سے ملیریا کے کم واقعات سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق،’’ کراچی کے ساحلی علاقوں اور کچی آبادیوں میں ملیریا کا مرض پیدا کرنے کے عوامل ہونے کے باوجود یہاں سے کم مریض سامنے آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ اکثر کیسوں کا رپورٹ کا نہ کرنا بھی ہے۔‘‘

پندرہ سالوں میں ملیریا کی وجہ سے اموات کی شرح میں ساٹھ فیصد کمی

نئی ویکسین انسانیت کے لیے ایک نعمت ہو گی

پاکستان کی قریب 98 فیصد آبادی کو ملیریا کے خطرے کا سامنا

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں انفیکشن سے ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے ماہر کنسلٹنٹ ڈاکٹر عون رضا کے مطابق صدیوں سے انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہونے والی اس بیماری سے بچنے کے لیے بعض احتیاطی تدابیرضرور اختیار کرنی چاہییں۔ ڈاکڑ عون رضا کہتے ہیں، ’’ملیریا سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ادویات کا اثر ایسے ممالک میں خاطر خواہ ہوتا ہے جہاں ملیریا عام پایا جاتا ہے۔ پاکستان بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہے۔ یہاں ملیریا کے مچھر کے کاٹے سے بچاؤ کے لیے نیٹ یا باریک کپڑا استعمال کیا جاتا ہے جو رات میں زیادہ سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لازمی کوشش کی جائے کہ آپ کے اطراف، گھر، ملازمت کی جگہ، بازاروں ، دکانوں اور سڑکوں پر گندا پانی نہ کھڑا نہ ہو۔ نمی والی جگہیں مچھروں کی افزائش کو دعوت دیتی ہیں لہذا اس کا خاص دھیان رکھا جائے۔‘‘

ڈاکٹر عون کا مزید کہنا ہے کہ اس مرض کی ابتداء میں سردی، بخار، تھکن، کپکپی، چھینکیں، بار بار پسینہ آنا، جسم میں درد ، سر میں درد، متلی، کھانسی، نزلے جیسی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔  اگر بر وقت علاج نہ ہو سکے تو مریض کے بے ہوش ہونے کے بعد موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ جلد پر خارش اور سرخ دھبے ملیریا کی نشانیوں میں شامل ہیں۔ ان علامات کےظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic