پاکستان میں انسانی اعضاء کی فروخت کا کاروبار | معاشرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں انسانی اعضاء کی فروخت کا کاروبار

انسانی اعضاء کی غیرقانونی فروخت کے دھندے کی گونج ایک مرتبہ پھر پاکستان کے طول و عرض میں سنی جا رہی ہے۔ چند ماہ قبل اس دھندے کی شدت میں قدرے کمی دیکھی گئی تھی۔

اعضاء کی غیر قانونی فروخت جن ممالک میں جاری ہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال سے ایک مرتبہ پھر انسانی اعضاء، خاص طور پر گردوں کی فروخت کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستان کے اندر گھمبیر ہوتے اقتصادی مسائل اور بڑھتی غربت کو بھی اس کی بڑی وجہ خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے صوبے سندھ میں انسانی اعضا کی غیر قانونی فروخت قدرے کنٹرول میں دکھائی دیتی ہے۔ جب کہ سب سے بڑی آبادی والے صوبے پنجاب میں یہ صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستانی پنجاب سے اس غیر قانونی دھندے کے بارے میں رپورٹیں تواتر سے آنے لگی ہیں۔

Nepal Organhändler gefasst

انسانی اعضا کی فروخت کرنے والا نیپالی اسمگلر

ابھی دو ماہ پہلے کی بات ہے کہ کاروبار میں شدید گھاٹا کھانے والے آصف احمد نے انٹرنیٹ پر اشتہار دیا کہ وہ اپنا ایک گردہ فروخت کرنا چاہتا ہے۔ اٹھائیس برس کے آصف نے گھمبر ہوتے اقتصادی مسائل سے نجات کے لیے گردہ بیچنے میں عافیت سمجھی۔ آصف کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں اس انداز میں گردے کی فروخت کے خلاف قانون موجود ہے لیکن اس کے پاس ایسا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ آصف کا تعلق پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی سے ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان میں انسانی اعضا کی غیر قانونی فروخت کے حوالے سے ایک قانون سن 2010 میں نافذ ہو گیا تھا۔ پاکستان میں ٹرانسپلانٹ کے قانون کے نفاذ کے بعد اس دھندے میں خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔ ممتاز ریسرچر ڈاکٹرفرحت معظم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران اس کاروبار میں ایک بار پھر شدت پیدا ہونے پر معالجین اور سول سوسائٹی کو سنگین تشویش لاحق ہے۔ ڈاکٹر فرحت معظم صوبہ سندھ کے مرکزی ٹرانسپلانٹ ادارے SIUT میں بائیو میڈیکل ایتھکس اینڈ کلچر کے شعبے کی سربراہ ہیں۔

Organtransplantation Organspende Operation Nierentransplantation

گردے کی ٹرانسپلانٹ کا منظر

ڈاکٹر فرحت معظم کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پاکستانی اور بعض غیر ملکی مریض صوبہ پنجاب میں گردے خریدنے کے عمل میں شریک ہو رہے ہیں۔ غیر ملکیوں کا تعلق مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بتایا جاتا ہے۔ خاص طور پر غیر ملکی مریضوں کے گردے خریدنے کو پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ امکاناً اسی تناظر میں ٹرانسپلانٹ سوسائٹی آف پاکستان کے علاوہ سول سوسائٹی کی بعض سرگرم تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے اور اس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے قانون پر پوری طرح عمل درآمد کروایا جائے۔ سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں کو اس قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے جولائی میں ایک حکم بھی جاری کیا ہے۔

ایک پاکستانی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نیشنل ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے مطابق سن 2010میں گردوں کی پیوند کاری کے 42 آپریشن میں 14 غیر قانونی انداز میں مکمل کیے گئے تھے۔ عالمی ادارہٴ صحت کی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں انسانی اعضاء کی غیرقانونی تجارت کے سالانہ بنیادوں پر دس ہزار سے زائد واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ایسے غیر قانونی دھندے میں نیپال، چین، بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

ah/km(IPS)