1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں اختلاف رائے کا حل صرف تشدد اور گرفتاریاں؟

رابعہ بگٹی ایجنسیاں
22 مارچ 2026

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج کے لیے حکومتی برداشت تقریباﹰ ختم ہو چکی ہے۔ ان عالمی تنظیموں نے ملک میں آزادی اظہار کو دبانے کے لیے گرفتاریوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا

https://p.dw.com/p/5Aswk
Pakistan Internationaler Frauentag in Pakistan
تصویر: Rahmat Gul/ASSOCIATED PRESS/picture alliance

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رواں مہینے کے پہلے ہفتے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی اس وقت خوف اور افراتفری کا شکار ہو گئی، جب پولیس نے اس میں شمولیت کے  آنے والی خواتین، مردوں اور بچوں میں سے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس پیشرفت کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ پاکستان میں اختلافِ رائے اور پُرامن احتجاج کے لیے حکومتی برداشت نا ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

سماجی کارکن ماورا باری کو اسلام آباد میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر منعقدہ مارچ میں شرکت کے لیے جانے کی پاداش میں یہ دن جیل میں گزارنا پڑا۔ جس دن ملک میں خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی پر بات ہونی چاہیے تھی، اسی دن انہیں اور دیگر کئی خواتین کو حکام کی جانب سے قید اور مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

سماجی کارکن باری نے بتایا، ''ہمیں قید کیا گیا اور ہم پر تشدد کیا گیا۔‘‘

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق زیرِ حراست افراد شدید خوف میں مبتلا تھے، جبکہ کئی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ پولیس اسٹیشن کے باہر ایک گرفتار خاتون کے والد نے روتے ہوئے کہا، ''میری بیٹی تو صرف مارچ دیکھنے آئی تھی۔ اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘‘

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مارچ کے مہینے میں یومِ خواتین کے حوالے سے ریلیاں نکالی جاتی رہی ہیں، مگر اس سال اسلام آباد میں انتظامیہ نے سخت کریک ڈاؤن کیا اور متعدد شرکا کو گرفتار کر لیا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے 8 مارچ کو ایکس پر لکھا تھا کہ خواتین کا بااختیار ہونا ''پاکستان کی ترقی کے لیے حکومتی وژن کا مرکزی حصہ‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ''آج ہم خواتین کی طاقت، ثابت قدمی، قیادت اور ان کی انمول خدمات کا جشن مناتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں کئی یوٹیوب چینلز بلاک کرنا درست فیصلہ تھا؟

تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے حالیہ صورتحال کو وزیر اعظم کے بیان کے برعکس قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں آزادیِ اظہار رائے اور پُرامن احتجاج کو دبانے کے لیے گرفتاریوں کا بڑھتا ہوا استعمال تشویش ناک ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک میں اختلافِ رائے کے لیے گنجائش تیزی سے کم ہو رہی ہے اور حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، طاقت کے استعمال اور اجتماعات پر پابندیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی کے نام پر 'کارروائیاں‘

ہیومن رائٹس واچ نے بھی سماجی کارکنوں، وکلا اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے، جبری گمشدگیوں اور ہراسانی کے واقعات رپورٹ کیے ہیں۔ پُرامن احتجاجی تحریکیں، مساوات کا مطالبہ کرنے والی خواتین، اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکن اکثر پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ ریاست کے حامی گروہوں کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے کارکن اسامہ خلجی کے مطابق، ''ریاست کے نزدیک ہر چیز قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور کسی کو بھی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کی مثال دی، جنہیں ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سمیت "ریاست مخالف" سوشل میڈیا پوسٹس کے الزام میں طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ڈیجیٹل صحافی اور یوٹیوب ہوسٹ سہراب برکت بھی گزشتہ سال کے آخر سے بغیر مقدمے کے زیرِ حراست ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے حکومت پر تنقید کرنے والے یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل ''توہین آمیز ریمارکس‘‘ اور غلط معلومات پھیلائیں۔

پیکا ترمیمی ایکٹ کا نشانہ کون، جعلی خبریں یا ناقدین؟

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نژاد پی ایچ ڈی طالب علم بھی گزشتہ ماہ کئی دنوں تک لاپتہ رہے۔ خلجی کے مطابق ان پر بھی ''ریاست مخالف‘‘ پوسٹس کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

سخت گیر قوانین اور میڈیا پر دباؤ

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق پاکستان اب بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں صحافیوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ 2024 میں کم از کم سات صحافی قتل ہوئے، جبکہ متعدد دیگر کو ہراسانی اور مبینہ جبری گمشدگیوں کا سامنا رہا۔

اسلام آباد کی صحافی سحرش قریشی بھی یومِ خواتین کے مارچ میں گرفتار ہونے والوں میں شامل تھیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ''میں تو صرف یہ جاننے گئی تھی کہ دوسرے صحافیوں کو ان کے کام پر کیوں گرفتار کیا گیا۔ مجھے اندر جانے کی اجازت تو ملی مگر پھر مجھے بھی بغیر کسی وجہ کے حراست میں لے لیا گیا۔‘‘

ادارت: شکور رحیم