1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: privat

پاکستان میں آن لائن بچوں کے استحصال کے بڑھتے واقعات

12 جون 2022

پاکستان میں آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ جرم اب ایک صنعت بن گیا ہے۔ لیکن حکام کو مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے میں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%86-%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%86-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%AD%D8%B5%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%D8%A7%D8%AA/a-62095479

پاکستان میں آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ جرم اب ایک صنعت بن گیا ہے۔ لیکن حکام کو مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے میں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں ہر شخص انٹرنیٹ کا عادی ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ ورچوئل دنیا میں بھی جرائم پیشہ افراد نے حقیقی دنیا کی طرح جرم کرنے کے طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں۔ ان کو ہم سائبر کرائم کہتے ہیں اور دنیا کے ہر ملک میں ان کے لیے سزائیں مقرر ہیں۔ ان جرائم میں حساس نوعیت کا ڈیٹا چوری کرنا، سائبر اسٹاکنگ، سائبر دہشت گردی، ای میل کی جعل سازی، غبن، فراڈ اور ان سب سے بدترین جرم آن لائن بچوں کا استحصال ہے، جس نے اب انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر بچوں کا استحصال ہوتا کیا ہے۔ اس میں بچوں کی برہنہ تصاویر، ان سے بدسلوکی کی تصاویر اور ان سے جنسی زیادتی کی ویڈیوز شامل ہیں۔ ان کو ایک مجرم کسی بھی ملک میں رہتے ہوئے اپ لوڈ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اس کے لیے وضع کیے گئے قوانین پر عمل درآمد کروانا کافی مشکل ہے۔

انٹرنیٹ کی آمد نے چائلڈ پورنو گرافی کی تیاری اور تقسیم کو تیز تر کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی کوئی حدود نہیں ہیں اسی لیے اس کی وجہ سے عالمی سطح پر بچوں کے استحصال خاص طور سے جنسی استحصال کے واقعات بڑھے ہیں۔ انٹرنیٹ کے اس طرح کے استعمال نے بچوں کے مستقبل کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

آج کل کے والدین بھی اپنے بچوں کو اس عفریت سے بچانے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ بچوں کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، ڈیسک ٹاپس اور دیگر آلات کے ذریعے انٹرنیٹ تک آسان رسائی حاصل ہے۔

بچوں کے تحفظ کے ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بچوں کی اس طرح  کی تصاویر کے ڈسٹری بیوٹرز یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر سادہ نظر آنے والے مواد کے لنکس پھیلا دیتے ہیں۔ یہ ڈسڑی بیوٹرز پورنوگرافی کا پتہ لگانے والے ٹولز سے بچنے کے لیے کوڈڈ لینگویج کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ دلچسپی رکھنے والے صارفین کو مزید نجی چینلز کی طرف لے جاتے ہیں جہاں وہ مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس وقت، ایک اندازے کے مطابق بچوں کے استحصال کی رپورٹس میں اوسطاً 30 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی بچے جو آبادی کا 35 فیصد ہیں ان کے لیے یہ بگڑتے ہوئے حالات ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ بہت سے والدین صرف پاکستانی سوسائٹی کے موجودہ ڈھانچے کی وجہ سے یہ جرائم رپورٹ نہیں کرتے۔

پاکستان میں بچوں کا آن لائن جنسی استحصال ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی او ساحل کے مطابق سال 2021 میں تقریباً 3852 بچوں اور بچیوں کا استحصال کیا گیا، جن کی عمریں 2 ماہ سے لے کر 18 سال تک ہیں۔اس میں گینگ ریپ، سوڈومی اور آن لائن استحصال کے کیسز شامل ہیں۔ یہ تعداد ان کیسز کی ہے جو رپورٹ کیے گئے۔ ان میں سے سب سے کم رپورٹ آن لائن استحصال کے کیسز ہوئے۔ کیونکہ ان کے دائرہ اختیار کے بارے میں کافی ابہام ہے۔ حالانکہ پاکستان نے اس قسم کے جرائم سے نمٹنے کے لیے اپنے قوانین میں کافی حد تک ترامیم کی ہیں۔ لیکن اپنے دائرہ اختیار کو وسیع اور مؤثر کرنے میں ابھی تک ناکامی سے دوچار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی شمار ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ سے وابستہ جرائم اپنی نوعیت تیزی سے بدلتے ہیں۔آن لائن استحصال کی یہ نئی شکل بین الاقوامی طور سے خاصی تشویش پیدا کر چکی ہے۔

پیکا ایکٹ

 اس پیکٹ کا مقصد آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور ہراساں کیے جانے کو روکنا ہے۔ پی ای سی اے کا سیکشن 21 نابالغ شخص کی فطری شائستگی اور عزت  سے متعلق ہے، جس کا استحصال کرنے کے نتیجے میں قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ قید کی مدت سات سال تک ہو سکتی ہے۔ آن لائن بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث کسی بھی شخص کو پچاس لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پی ای سی اے کا سیکشن 22 انفارمیشن سسٹم کے ذریعے چائلڈ پورنوگرافی کی تیاری، تقسیم، ترسیل اور حصول کو جرم قرار دیتا ہے۔ بلاشبہ یہ قانون پاکستان کے لیے وقت کی اہم ضرورت تھی۔

تاہم میرے خیال میں دو وجوہات کی بنا پر قانون کو اب تک مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکا ہے۔ سب سے پہلے، لوگوں کو انٹرنیٹ ٹھیک سے استعمال کرنا نہیں آتا۔انہیں حقیقت میں اس طریقہ کار کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا،جس کے ذریعے وہ آن لائن بدسلوکی کی اطلاع دے سکتے ہیں اور دوسرا، خاص طور پر مقامی کمیونٹی کی سطح پر پولیس کے محکمے کی طر ح کا  کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ اس طرح کے واقعات کی تحقیق کا اختیار اس وقت وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو تفویض کیا گیا ہے۔

 عالمی سطح پر آن لائن جرائم میں جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ہے قانون کے دائرہ اختیار کا اور مجرم کی ٹریکنگ کے لیے درکار اضافی وسائل کا۔ ہر ملک کے قانون کا دائرہ اختیار اس کی سرحدوں تک محدود ہوتا ہے۔ جبکہ آن لائن جرم کرنے والا کسی بھی ملک میں بیٹھ کر ویڈیو یا تصاویر اپ لوڈ کر سکتا ہے۔ اس وجہ ان مجرموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے میں مشکلات آتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایسا قانون بنایا جائے جو تمام ممالک میں یکساں لاگو کیا جائے تاکہ بین الاقوامی فوجداری قوانین کے تحت کسی بھی مجرم کے خلاف مقدمہ چلانے میں آسانی ہو۔

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Salman Iqbal

اے آر وائی کے خلاف کارروائی کی ذمہ دار حکومت ہے، سلمان اقبال

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں