پاکستان: متعدد غیرملکی این جی اوز کو کام بند کرنے کے احکامات | حالات حاضرہ | DW | 14.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: متعدد غیرملکی این جی اوز کو کام بند کرنے کے احکامات

پاکستانی حکومت کی طرف سے کئی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں ساٹھ دن کے اندر اندر روک دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے پر سول سوسائٹی کے ارکان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے متعدد ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اکیس بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس وزارت کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا، ’’اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ بین الاقوامی تنظیموں پر سختی کی جائے گی اور اب ان تنظیموں کے لئے پاکستان میں جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔‘‘
جن تنظیموں کو وزارتِ داخلہ کی طرف سے خطوط ملے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اس مسئلے پر بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تاہم ایکشن ایڈ ذرائع کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا  گیا ہے کہ تنظیم کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی رجسٹریشن کی درخواست کو کیوں مسترد کیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا، ’’ہمیں اس پر حیرانی ہوئی ہے کیونکہ بین لاقوامی این جی اوز کے طویل رجسٹریشن کے عمل کے دوران ہم نے سارے متعلقہ کاغذات جمع کرائے اور تمام اطلاعات بھی فراہم کیں اور تمام قوانین اور ضابطوں کی پاسداری بھی کی ہے۔‘‘

Pakistan Baby Frau Kind Mutter (AP)


پاکستان ہیومینیٹرین فورم کی ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا،’’میں صرف اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ ہم سے منسلک دس این جی اوز کو اپنی سرگرمیاں ساٹھ دن میں بند کرنے کو کہا گیا ہے۔ میں ان تنظیموں کے نام نہیں بتاسکتی۔ مجھے دس کے علاوہ بقیہ تنظیموں کے حوالے سے کچھ نہیں پتا۔‘‘
فورم نے ایک پریس ریلیز میں کہا، ’’وزارت داخلہ نے اس ہفتے پی ایچ ایف سے منسلک کئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لئے دی جانے والی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ این جی اوز  صحت، تعلیم، انسانی حقوق، فوڈ سیکورٹی اور پانی کی فراہمی سمیت کئی شعبوں میں کام کر رہی تھیں۔‘‘

پاکستان: 23 غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ ہو گی
پاکستانی وزارتِ خزانہ کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا، ’’حیرت کی بات ہے کہ اس میں بعض ایسی این جی اوز کے نام بھی شامل ہیں، جن کی بین الاقوامی سطح پر بہت اچھی شہرت ہے، جیسا کہ ایکشن ایڈ۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کو اس سال جون میں کام کرنے سے روکا گیا۔ میری اطلاع کے مطابق اکیس این جی اوز کو خطوط بھیج کر کام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ریاست پہلے ہی بنیادی ضروریات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ اب ان این جی اوز کے جانے سے مسائل مزید بڑھیں گے۔‘‘
سول سوسائٹی کے ارکان بھی اس فیصلے پر تشویش کا شکار ہیں اور اس کو ریاست کے بڑھتے ہوئے جبر کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسد بٹ نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ بہت پریشان کن رجحان ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی اور ملکی این جی اوز کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف حافظ سعید جیسے لوگ این جی اوز کے نام پر اندرونِ سندھ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ ایچ آر سی پی تو کوئی امریکی یا روسی امداد نہیں لیتی۔ اس کے باوجود ہمیں بھی ایجنسیوں والے تنگ کرتے ہیں۔ ہمارے دفتر میں آکر کہتے ہیں کہ اس مسئلے یا اس مسئلے پر کیوں پریس کانفرنس کر رہے ہو۔ یہ بہت خطرناک رجحان ہے اور اسے روکنے کے لئے سب کو متحد ہونا پڑے گا۔‘‘
معروف سماجی کارکن فرازنہ باری نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس طرح کے اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ آزادانہ احتساب کا گلہ گھونٹا جائے اور انسانی حقوق کی ہونے والی خلاف ورزیوں کو چھپایا جائے۔ بین الاقوامی ادارے جب کسی مسئلے پر بولتے ہیں تو دنیا ان کو سنتی ہے جیسا کہ بلوچستان میں لوگوں کی گمشدگی کا مسئلہ یا آفت زدہ علاقوں میں سرکاری حکام کی غفلت۔ اب بین الاقوامی این جی اوز کے جانے سے ان مسائل کو دنیا غور سے نہیں سنے گی ۔‘‘

DW.COM

اشتہار