پاکستان، لڑکیوں کے لیے مناسب رشتے ڈھونڈنا مشکل کیوں ہے؟ | دستک | DW | 15.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

پاکستان، لڑکیوں کے لیے مناسب رشتے ڈھونڈنا مشکل کیوں ہے؟

میری دوست کرن نے اس سال اپنی پچیسویں سالگرہ منائی ہے۔ اس کے والدین پچھلے کچھ ماہ سے اس کے لیے ایک اچھا سا رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ ایسا کس طرح کرے؟

کچھ دن پہلے اس کا فون آیا تو مجھے اس کی آواز تھکی تھکی سی لگی۔ میں نے وجہ پوچھی تو وہ آہستہ آہستہ سب بتانے لگی۔ اس کے والدین روایتی طریقوں سے اس کے لیے رشتے ڈھونڈ رہے تھے۔ انہوں نے رشتہ کروانے والوں سے بھی اس کے رشتے کے لیے کہہ رکھا تھا۔ وہ خود بھی اپنے تئیں کوشش کر رہی تھی تاہم اس پورے عمل نے اسے تھکا دیا تھا۔

وہ خوش شکل ہے، پڑھی لکھی ہے، جدید دور کے جدید تقاضوں سے واقف ہے لیکن پھر بھی اس کے لیے ایک مناسب رشتہ ڈھونڈنا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس کا کہنا تھا، ''میں اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہوں بھی تو نہیں کر سکتی۔ ڈیٹنگ اس ملک میں بری سمجھی جاتی ہے۔ میرے والدین میرا کہیں آنا جانا کچھ خاص پسند نہیں کرتے۔ آن لائن بہت سی ویب سائٹس اور ایپس موجود ہیں مگر وہاں سنجیدہ لوگ موجود نہیں ہیں۔ میں اپنے لیے کوئی لڑکا کیسے ڈھونڈوں؟‘‘

کرن کی نانی کا رشتہ مسجد میں طے ہوا تھا۔ ان کے والد نماز پڑھنے گھر کے قریب ایک مسجد میں جایا کرتے تھے۔ وہاں ان کے کئی دوست بن گئے۔ ایک دن ایک دوست نے اپنے بیٹے کا رشتہ ان کی بیٹی کے لیے پیش کیا، جو انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے قبول کر لیا۔ گھر آ کر سب کو بتا دیا۔ سب ہنسی خوشی راضی ہو گئے۔ دو چار بار دونوں خاندان ملے، شادی کی تاریخ طے ہوئی اور پھر اس تاریخ پر اس کی نانی کی شادی کر دی گئی۔ سمپل۔۔۔ ایزی۔۔۔

کرن کی امی شادی کی عمر کو پہنچیں تو اس کی نانی نے آس پاس کچھ لوگوں کو اپنی بیٹی کے لیے رشتہ دیکھنے کا کہہ دیا۔ کچھ عرصے بعد خاندان سے ہی ایک رشتہ آ گیا۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا اور یوں اس کی امی کی بھی شادی ہو گئی۔ اب کرن کی باری ہے۔ اس کی نانی کے دور سے آج کے دور تک شادی بیاہ کا طریقہ بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ اس وقت زیادہ تر لوگ خاندان کی مرضی سے شادی کرتے تھے۔ آج بھی زیادہ تر شادیاں خاندان کی پسند سے ہی ہوتی ہیں، تاہم پسند کی شادیاں بھی کسی حد تک عام ہو چکی ہیں۔

لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے رشتہ آنٹی اور رشتہ انکل کی مدد لیتے ہیں۔ وہ انہیں ان کے مطابق کچھ رشتے دکھاتے ہیں، ملنا ملانا ہوتا ہے، کہیں بات بنے تو وہ اس خوشی میں دونوں خاندانوں سے کچھ رقم بطور معاوضہ لے لیتے ہیں۔ آج بھی رشتہ آنٹی اور رشتہ انکل کا کلچر کافی عام ہے لیکن ان میں پروفیشنلزم کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ کرن جیسی پڑھی لکھی لڑکیاں جب ان سے کسی رشتے کی تفصیلات پوچھتی ہیں تو وہ انہیں جواب نہیں دے پاتے اور ان کے کچھ بتانے پر وہ برا مان جاتے ہیں۔

پہلے بہت سے رشتے شادیوں پر طے ہو جایا کرتے تھے۔ آج بھی کچھ رشتے ایسے طے ہوتے ہیں۔ تاہم، اس ضمن میں کچھ نئے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔ اس میں انٹرنیٹ کا بڑا ہاتھ ہیں۔ اب بہت سی ایسی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا گروپس موجود ہیں، جہاں لوگ اپنے اور اپنے عزیزوں کے لیے رشتہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔ وہ وہاں اپنی پروفائل اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور دوسروں کی پروفائلز دیکھ سکتے ہیں۔ کسی کی پروفائل پسند آنے پر ان سے رابطہ کر کے بات چیت آگے بڑھا سکتے ہیں۔

کرن بھی ان میں سے کچھ آپشنز استعمال کر رہی ہے لیکن اسے ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ مسئلہ رشتہ آنٹی نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ ہے، جو شادی کے سلسلے میں اتنی ہی روایتی اور فرسودہ ہے، جتنی سالوں پہلے تھی۔

لوگ اب بھی گھر کے رقبے، چائے کی ٹیبل پر موجود سامان، رنگ، قد اور ذات پر ہی رشتہ طے کرتے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ ان ویب سائٹس اور ایپس پر موجود زیادہ تر مرد سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان میں سے بہت سے مردوں کے لیے یہ لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ بات کرنے کا آسان طریقہ ہے۔

جو سنجیدہ ہیں ان کی سوچ وہی روایتی ہے، قد ایسا ہو، شکل ایسی ہو اور گھر ایسا ہو۔ جو اس روایتی سوچ سے ہٹ کر ہوتے ہیں انہیں ان نئے طریقوں کے باوجود رشتہ ڈھونڈنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا؟

ایسا نہیں ہے۔ کرن اور اس جیسی بہت سی لڑکیاں اپنے آس پاس لڑکیوں کو اچھے رشتوں میں بندھتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر ''وی میٹ آن ٹویٹر، وی میٹ آن فیس بک اور وی میٹ آن ٹنڈر‘‘  کے ٹرینڈ بھی نظر آتے ہیں۔

یہ ٹرینڈ بتاتے ہیں کہ کہیں کچھ تبدیل تو ہوا ہے۔ کرن اور اس جیسی لڑکیوں تک اس تبدیلی کے اثرات پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا اور تب تک انہیں رشتہ ڈھونڈنے کے انہیں روایتی طریقوں سے گزرنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے آنے والے عشروں میں ہم ان کی اس مشکل کا احساس کرتے ہوئے اپنے طور طریقے تبدیل کریں تاکہ مزید لڑکیوں کو اپنی شادی کے لیے اس طرح تھکنا نہ پڑے۔