1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر پہرہ دیتے سپاہیتصویر: Getty Images/AFP

پاکستان: شمالی وزیرستان میں خود کش بم حملہ، چار فوجی ہلاک

9 اگست 2022

پاکستان کے افغان سرحد کے قریبی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی قافلے پر خود کش بم حملے میں چار فوجی مارے گئے۔ پاکستانی فوج کے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ بم حملہ میر علی کے مقام پر کیا گیا۔

https://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%DA%A9%D8%B4-%D8%A8%D9%85-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%81-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D9%81%D9%88%D8%AC%DB%8C-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9/a-62755518

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے نو اگست منگل کے روز موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا کہ ملکی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کب کیا گیا۔ بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ ماضی میں پاکستانی قبائلی علاقے کہلانے والے شمالی مغربی علاقوں میں سے شمالی وزیرستان میں ایک خود کش حملہ آور کی طرف سے ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنانے کے واقعے میں چار فوجی مارے گئے۔

پاکستان: میران علی میں خود کُش حملہ تین سکیورٹی اہلکار اور تین بچے ہلاک

مقامی پولیس اور ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس حملے میں ایک عسکریت پسند نے اپنی آٹو موبائل پیر آٹھ اگست کو رات گئے وہاں سے گزرنے والے ایک فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں سے ٹکرا دی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس سرحدی علاقے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسے خونریز حملوں میں ایک بار پھر کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماضی میں شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی ایجنسیاں پاکستانی طالبان، دہشت گرد تنظیم داعش کے شدت پسندوں اور دیگر عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔ پھر کئی سال پہلے پاکستانی فوج نے ان علاقوں میں کئی مرتبہ آپریشن کر کے ان شدت پسندوں کو وہاں سے تقریباﹰ نکال دیا تھا۔

کیا ٹی ٹی پی ایک مرتبہ پھر متحرک ہو رہی ہے؟

Pakistan Waziristan Armee Infanterie ARCHIV
پاکستانی فوج ماضی میں ان علاقوں میں کئی مرتبہ طویل آپریشن کر چکی ہے، جب یہ علاقے ابھی قبائلی ایجنسیاں کہلاتے تھےتصویر: picture-alliance/AP

خالد خراسانی کی ہلاکت کے ایک روز بعد کیا جانے والا حملہ

روئٹرز کے مطابق منگل کی دوپہر تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے اس خود کش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔ پاکستانی سرحدی علاقے میں یہ حملہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ہونے والے ایک دھماکے میں عمر خالد خراسانی کی موت کے ایک روز بعد کیا گیا۔ خراسانی پاکستان کا ایک بہت سرکردہ عسکریت پسند رہنما تھا، جس کے سر کی امریکہ نے تین ملین ڈالر قیمت لگا رکھی تھی۔

امدادی تنظیم کے لیے کام کرنے والی چار خواتین فائرنگ سے ہلاک

عمر خالد خراسانی کا اصل نام عبدالولی تھا اور وہ پاکستانی طالبان کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا بانی رکن ہونے کے علاوہ اس تحریک کا ایک سرکردہ رہنما بھی تھا۔ اس کی موت کو پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے لیے بہت بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خراسانی کا تعلق جماعت الاحرار نامی اس عسکریت پسند تنظیم سے تھا، جسے امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں نے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ماضی میں یہ ممنوعہ شدت پسند تنظیم پاکستان میں مقامی مسیحی اقلیت، شیعہ مسلمانوں، پولیس کے دستوں اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر بہت سے ایسے خونریز حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے، جن میں مجموعی طور پر سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

م م / ع ا (روئٹرز، اے پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | Monsun Überschwemmungen

کئی ملین پاکستانی سیلاب متاثرین کو غذائی بحران کا سامنا

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں