پاکستان سے غربت کا خاتمہ: حکومت کو کون سے تین کام کرنا ہوں گے؟ | معاشرہ | DW | 17.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستان سے غربت کا خاتمہ: حکومت کو کون سے تین کام کرنا ہوں گے؟

عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اسی فیصد غریب آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور ملک کے تمام صوبوں میں سے سب سے زیادہ غربت بلوچستان کے دیہی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جمعرات سترہ اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ انیس سو ترانوے سے ہر سال منائے جانے والے اس دن کا مقصد غربت کا خاتمہ اور غریب انسانوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہے۔

لیکن آج اس دن کے موقع پر پاکستان کے لیے، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، یہ بات بھی کم تشویش ناک نہیں کہ اگلے سال کے دوران بھی ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح جنوبی ایشیا میں بہت کم رہنے کی توقع ہے۔ وہ دو ممالک جہاں اقتصادی ترقی کی شرح کے حوالے سے حالات ممکنہ طور پر پاکستان سے بھی برے رہیں گے، افغانستان اور سری لنکا ہوں گے۔

دنیا بھر میں خوراک کافی لیکن بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوکے

پاکستانی حکومت اپنے طور پر ملکی اقتصادی صورت حال میں بہتری کی کوششیں کر تو رہی ہے لیکن یہ کاوشیں بظاہر بہت کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔

ایک گھریلو ملازمہ کی کہانی

آج غربت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پاکستانی عوام کیا سوچتے ہیں، یہ پتہ چلانے کے لیے ڈی ڈبلیو نے بات کی سکینہ بتول سے، جو ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر اسلام آباد میں مختلف گھروں میں کام کرتی ہیں۔ سکینہ بتول نے کہا، ''ہر چیز اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ ہم جو کچھ بھی کماتے ہیں، وہ کھانے پینے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بجلی، پانی، گیس کے بلوں، بچوں کے اسکول کی فیسوں، اشیائے خوراک کی خریداری میں سے آپ کہاں اور کیا بچت کر سکتے ہیں؟ ہم تو بمشکل بس اپنا پیٹ ہی پال سکتے ہیں۔''

سکینہ بتول نے بتایا، ''ہم مسلسل پریشان رہتے ہیں کہ ہماری آمدنی کم ہے اور اخراجات بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ ہم نے تو بیماری کی صورت میں ڈاکٹروں تک کے پاس جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ادویات انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کا بھی برا حال ہے۔ جب بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا بھی ایک بڑی جدوجہد بن جائے، تو آپ بچوں کے لیے دودھ یا پھل خریدنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟''

'علاج نہیں ہو رہا، بیماری چھپائی جا رہی ہے'

پاکستان میں موجودہ حکومت نے عوام سے پہلے ایک کروڑ نوکریوں اور ان کے لیے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن اب غربت کے خاتمے کی سرکاری پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے مقابلے میں لنگر خانے کھول کر 'بھوک کے خاتمے' کو راہ نجات سمجھا جانے لگا ہے۔

لیکن کیا یہی وہ بہترین حکومت عملی ہے، جو پاکستانی حکومت اس وقت اپنا سکتی ہے؟ اس بارے میں ڈی ڈبلیو نے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم سے بات کی جو ماضی میں اقتصادی امور کے حکومتی ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں حکومتی معاشی پالیسیوں پر ان کی طرف سے تنقید کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تب ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے''بیماری کا علاج نہیں کر رہی بلکہ بیماری چھپا رہی ہے۔''

Pakistan Weltarmutstag

’پاکستان میں گزشتہ صرف ایک سال میں مزید چار ملین پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں‘

بھوک، ایک پلیٹ سالن مٹاتی ہے یا تعلیم اور روزگار؟

ڈاکٹر فرخ سلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''معاشی پالیسی اور لنگر جیسے اقدامات دو مختلف باتیں ہیں۔ انتہائی غریب افراد کی مدد کے لیے دیگر ممالک میں بھی 'سوپ کچنز' ہوتے ہیں۔ یہ لنگر خانے بھی وہی چیز ہیں۔ یوں انتہائی غریب یا بھوکے شہریوں کی کچھ  مدد کی جا سکتی ہے، جو سوچ کی حد تک بری بات نہیں۔ لیکن یہ کوئی اکنامک پالیسی تو نہیں ہے۔ اقتصادی پالیسی کے لیے منصوبہ بندی درکار ہوتی پے، طویل المدتی اہداف ہوتے ہیں، ان پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ موجودہ پاکستان میں تو نظر نہیں آ رہا۔''

عوام کی مسلسل کم ہوتی جا رہی قوت خرید

پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح موجودہ حکومت کے دور میں گزشتہ حکومت کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً آدھی کیوں رہ گئی ہے، اس بارے میں ڈاکٹر فرخ سلیم  نے کہا، ''کئی وجوہات ہیں۔ منگائی کا ایک اہم پہلو 'فوڈ انفلیشن' یعنی اشیائے خوراک کی قیمتوں کا بہت زیادہ ہو جانا بھی ہے۔ حکومت کو اس پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ پاکستان میں امیر طبقہ خوراک پر شاید اپنی آمدنی کا بیس سے لے کر تیس فیصد تک خرچ کرتا ہے۔ لیکن متوسط یا نچلے متوسط طبقے کے شہریوں کی بہت بڑی تعداد اپنی آمدن کا ستر سے لے کر اسی فیصد تک حصہ خوراک پر ہی خرچ کرتی ہے، صرف زندہ رہنے کے لیے۔ جب اشیائے خوراک کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں تو کم آمدنی والا طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جانا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ صرف ایک سال میں جس تیزی سے مہنگائی زیادہ ہوئی ہے، میرے خیال میں محض اس ایک وجہ سے ہی چار سے پانچ ملین پاکستانی شہری اضافی طور پر غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔''

چوالیس فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار، حل کس کے پاس؟

ڈاکٹر فرخ سلیم کے بقول، ''میری رائے میں پاکستان میں دو طرح کے فوری اقدامات کیے جانا ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ حکومت کسی طرح عام شہریوں کی اقتصادی قوت خرید بڑھائے اور عوام کے پاس قابل استعمال مالی وسائل زیادہ ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ شرح سود میں کمی لائی جائے۔ صنعتی شعبے پر قرضے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ جس کسی نے پہلے پچاس لاکھ روپے واپس دینا تھے، اب اس کے ذمے واجب الادا رقوم کی مالیت ایک کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسی لیے کاروباری طبقہ اپنے کاروبار اور فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہوتا جا رہا ہے۔''

ویڈیو دیکھیے 02:31

ایک مراکشی خاتون کی المناک کہانی

غربت اور جرائم کا تعلق

راولپنڈی کے رہائشی کرمنالوجسٹ قاسم سجاد نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں بتایا، ''جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ اس کی بہترین صورت میں وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا ہوتا نظر ہی نہیں آتا۔ نتیجہ یہ کہ وسائل کی اسی نامناسب سماجی تقسیمکے باعث معاشرے میں غربت، بےچینی، مایوسی اور افراتفری پھیلتی ہیں اور پھر بے روزگاری اور ایسے ہی دیگر عوامل کے سبب معاشرے میں چوری، قتل، دھوکا دہی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت ہی جرائم کی جڑ ہے۔''

سموسے بیچنے والے گریجویٹ کی کہانی

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں سموسے بنا کر بیچنے والے مقامی گریجویٹ سلیم خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''مجھے تعلیم کے بعد بڑی کوشش کے باوجود کافی عرصے تک کوئی نوکری نہیں ملی تھی۔ اب کئی سال سے سموسے بیچتا ہوں اور اپنے اہل خانہکا پیٹ پالتا ہوں۔ میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ گھر میں ماں ہے اور سات بہن بھائی لیکن کمانے والا میں ایک ہی ہوں۔''

پاکستان میں غربت میں اضافے کی سلیم خان کے مطابق وجہ بڑی واضح اور قابل فہم ہے۔ ان کے مطابق اس غربت کے تسلسل میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا بھی حصہ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ''سالانہ ملکی بجٹ کا بہت بڑا حصہ اگر کسی ملک کی مسلح افواج کے حصے میں آئے گا، تو عوام تو متاثر ہوں گے ہی۔ پاکستان میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں کی حالت ہی دیکھ لیں۔ رہی سہی کسر نااہل حکمرانوں کے عوام پر مسلط کیے جانے سے پوری ہو جاتی ہے۔ کیا یہ بات قابل فہم ہے کہ کسی ملک میں کارخانے بند ہونے لگیں اور لنگر خانے کھلتے جائیں؟ پاکستان میں پہلے تو زندگی مہنگی تھی، اب تو موت بھی مہنگی ہو گئی ہے۔''

تین اہم ترین فوری کام

پاکستانی ماہر اقتصادیات اکرام ہوتی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''غربت کا خاتمہ تب ہو گا جب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، عوام کو زیادہ مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور افراط زر کی شرح بھی قابو میں رہے گی۔ اگر یہ تین عوامل قابو میں نہ آئے، تو سماجی افراتفری بھی بڑھے گی اور غربت بھی۔ غربت کا تعلق انکم سے ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے آمدنی زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومتی پالیسیاں درست اور مؤثر ہوں۔ کسان جو کچھ اگاتا ہے، وہ خود زیادہ کھا نہیں سکتا کیونکہ اسے تو وہ بیچنا ہوتا ہے۔ غریب کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ اس کی خوراک پر لگ جاتا ہے۔ علاج معالجے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ اسی لیے ایسے شہری یا تو بھوک سے مر جاتے ہیں یا پھر بیماری سے۔''

اکرام ہوتی کے مطابق، ''معاشی پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کے لیے ماہرین درکار ہوتے ہیں، جو اس حکومت میں تو نظر نہیں آتے۔ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی سیاسی سوچ ہے، نہ پالیسی اور نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا وہ حالیہ بیان ہی دیکھ لیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام اپنے لیے نوکریوں کی خاطر حکومت کی طرف نہ دیکھیں۔ بین الاقوامی سطح پر کسی ملک میں عوام کو ملازمتیں حکومتیں بھی دیتی ہیں اور عوامی اور نجی کاروباری شعبے بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے عوام کو نوکریاں نہیں دینا تھیں، تو انہی سیاستدانوں نے پاکستانی شہریوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہی کیوں تھا؟ اب نتیجہ یہ کہ لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے بیسیوں سرکاری اداروں کو یا تو بند کرنے کی بات ہو رہی ہے یا پھر ان کے عملے میں کمی یا برطرفی کی۔ صرف اس طرح ہی نو ماہ میں مزید لاکھوں پاکستانی بے روزگار ہو چکے ہیں۔''