پاکستان: سعد رضوی کی گرفتاری، پرتشدد مظاہرے، دو افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان: سعد رضوی کی گرفتاری، پرتشدد مظاہرے، دو افراد ہلاک

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں کے دوران کم ازکم دو افراد ہلاک اورپولیس اہلکاروں سمیت متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

علامہ سعد حسین رضوی نے ایک فرانسیسی جریدے میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پرحکومت پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد انتہائی دائیں بازو کی اسلام پسند جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ کو'امن و قانون برقرار رکھنے ‘ کے مد نظر کل لاہور سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پنجاب میں نیم فوجی دستے طلب کر لیے گئے ہیں۔ لاہور کی مختلف سڑکوں پر پولیس، ایلیٹ فورس اور رینجرز کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔

 کراچی، ملتان، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حکام احتجاج اور دھرنے ختم کروانے کے لیے ٹی ایل پی کے ذمہ داروں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس دوران تشدد کے واقعات میں کم از کم دو افراد کی ہلاکت اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

معاملہ کیا ہے؟

تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے طنزیہ جریدے شارلی ایبدو میں گزشتہ برس پیغمبر اسلام کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت کے لیے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان نے گزشتہ برس نومبر میں ٹی ایل پی کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی کے دھرنے کے بعد ان سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے ایک قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری میں ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو بیس اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے اس وعدے پر عمل نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب ایک لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کا تاہم کہنا ہے کہ اس نے صرف اس معاملے پر پارلیمان میں بحث کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

سعد رضوی کی گرفتاری

سعد حسین رضوی کو پیر کی دوپہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کی حراست کی خبر عام ہوتے ہی ٹی ایل پی کے کارکنوں نے لاہور، کراچی،، اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں مظاہرے شروع کرد یے۔ انہوں نے ان شہروں میں اہم سڑکیں اور شاہراہیں بھی بند کر دیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمد ڈوگر نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں لیکن تحریک لبیک کے کارکنان اور حامیوں کی جانب سے مظاہروں اور دھرنوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے املاک کو نقصان نہ پہنچانے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کو جماعت کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

ج ا / ص ز  (اے پی، ڈی پی اے)

DW.COM