پاکستان: سانپوں کے زہر کے خلاف ادویات کی رسد طلب سے بہت کم | صحت | DW | 21.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پاکستان: سانپوں کے زہر کے خلاف ادویات کی رسد طلب سے بہت کم

پاکستان میں ایسے شہریوں کی سالانہ تعداد تقریباً پینتیس ہزار بنتی ہے، جنہیں کوئی نہ کوئی سانپ کاٹ لیتا ہے۔ ان میں سے ہزاروں سانپ کے زہر کے خلاف ویکسین بروقت دستیاب نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سانپ کے زہر کے خلاف ویکسین کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ادارے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر اکرم نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ جو اینٹی وینم بنا رہا ہے، وہ چار مختلف سانپوں کے زہر سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سانپ کوبرا، رسل وائپر، ایکس اور کریٹ ہیں، جن سے حاصل کیے گئے زہر سے اینٹی وینم کی سالانہ تیس ہزار وائلز یا چھوٹی چھوٹی شیشیاں تیار کی جاتی ہیں۔

سانپ کے کاٹے کے علاج کے لیے تریاق یا دوائی اسی سانپ کے زہر سے بنائی جاتی ہے۔ کسی بھی تریاق کی تیاری کا عمل خاصا طویل اور انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے۔ طبی زبان میں سانپ کے زہر کے خلاف ایسی ادویات کو اینٹی وینم کہا جاتا ہے۔ ان کی تیاری کے لیے ماہرین ’معاون‘ جانوروں کے طور پر زیادہ تر بھیڑوں یا گھوڑوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں ڈونرز کہا جاتا ہے۔

ان ڈونرز کو ماہرین پہلے ایک یا ایک سے زیادہ قسموں کے سانپوں کا زہر دیتے ہیں اور پھر ان کی مدد سے تیار کی جانے والی اینٹی وینم ادویات مختلف زہریلے سانپوں کے کاٹنے سے بیمار ہو جانے والے افراد کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

 ڈاکٹر عامر اکرم کے بقول اپنے اثرات میں یہ تریاق اتنے اعلیٰ معیار کا ہوتا ہے کہ ایک بین الاقوامی طبی جریدے نے حال ہی میں اسے سراہتے ہوئے لکھا کہ یہ اپنے نتائج میں پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں بنائے گئے اینٹی وینم سے کہیں بہتر ہے۔

طلب اور رسد میں واضح فرق

کیا پاکستان میں این آئی ایچ کی طرف سے تیار کیے گئے اینٹی وینم پورے ملک میں ایسی ادویات کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں، اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر عامر اکرم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’2004 میں شروع کیا گیا ہمارا اینٹی وینم پروجیکٹ حکومتی امداد کی عدم دستیابی کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ ماضی قریب میں ہم ملکی سطح پر ایسی ادویات کی طلب کا صرف ایک تہائی حصہ پورا کر سکتے تھے۔ اب حکومت کی جانب سے فنڈنگ کی بحالی اور زیادہ تعاون کے نتیجے میں ہم اس منصوبے پر بھرپور کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

 انہوں نے بتایا کہ اس سال اگست تک ایک ایسا پلانٹ کام کرنا شروع کر دے  گا، جو ملکی ضروریات کا نصف سے زائد پورا کر سکے گا، ’’یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اس منصوبے پر ایک سے زیادہ شفٹوں میں کام کیا جائے، تو ہم ملکی ضروریات کا سو فیصد پورا کر سکیں۔‘‘

پاکستان کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کو امید ہے کہ یہ نیا پلانٹ فعال ہو جانے کے بعد نہ صرف بہت زیادہ مقدار میں اینٹی وینم ادویات بنائی جا سکیں گی بلکہ ملک میں اینٹی ریبیز (کتے کے کاٹے کے خلاف ادویات) اور اینٹی ڈسٹیریا کی قلت بھی ختم کی جا سکے گی۔ پاکستان میں اس شعبے میں بہتر کارکردگی اور تحقیق کے لیے ایک ریسرچ سینٹر کے قیام کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔

این آئی ایچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، ’’اس سینٹر کے قیام کا مقصد سانپوں کی مقامی اقسام اور ان کے متنوع زہر کے خلاف ویکسینز کی تیاری پر تحقیق ہے، جس کے بعد ہم ملک میں اینٹی وینم کی ٹوٹل ڈیمانڈ مقامی سطح پر ہی پوری کر سکیں گے اور بیرون ملک سے ادویات درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘‘

 

تریاق کی تیاری ایک سال میں

اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا ایک ذیلی شعبہ بائیولوجیکل پروڈکشن ڈویژن بھی ہے۔ اس شعبے کی سربراہ ڈاکٹر غزالہ پروین نے ڈی ڈبلیو کو تفصیل سے بتایا کہ کسی زہر کے تریاق یا اینٹی وینم کی تیاری کتنا طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ یہ ادارہ اینٹی وینم بنانے کے لیے زہریلے سانپ خریدتا ہے۔ ایک عام سانپ سے اوسطاً ہر دو ہفتوں بعد زہر حاصل کیا جاتا ہے، جسے منجمد کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔پھر یہ زہر تھوڑا تھوڑا کر کے لیکن طویل عرصے تک گھوڑوں کو دیا جاتا ہے، جو اپنے جسمانی مدافعتی نظام کی وجہ سے بتدریج اس زہر کے خلاف مزاحمت یا مقابلے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔

 ڈاکٹر غزالہ پروین نے بتایا، ’’زہر کے خلاف مدافعت پیدا ہو جانے کے بعد ہم ڈونر جانور کے جسم سے خون لے کر اس میں سے اینٹی باڈی خلیات کو علیحدہ کر لیتے ہیں۔ انہی اینٹی باڈی خلیات سے اینٹی وینم ادویات تیار کی جاتی ہیں اور اس پورے عمل میں دس سے بارہ ماہ تک کا عرصہ لگتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر غزالہ پروین نے سانپ کے کاٹے کے مریض کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ این آئی ایج کی تیار کردہ ایک اینٹی وینم وائل کی قیمت بارہ سو روپے ہے اور ایک مریض کو کم از کم تین سے چار وائلز لگتی ہیں۔ یوں اوسطاً ایک مریض کے علاج پر تقریبا پانچ ہزار روپے تک خرچ ہوتے ہیں، جو درآمدی ادویات کے استعمال کی لاگت سے تین چوتھائی سستا ہے، ’’اس کے علاوہ اس ویکسین کی کم مقدار بھی زیادہ مؤثر ہوتی ہے جبکہ درآمد کیا گیا اینٹی وینم استعمال کیا جائے، جو زیادہ تر بھات سے آتا ہے، تو مریض کو اس کی بارہ سے پندرہ تک وائلز لگانا پڑتی ہیں۔

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ صحت کے شعبے میں ریاستی اداروں کا بجٹ بڑھایا جانا چاہیے، ’’اسی طرح ہم ملک میں ایسی ادویات کی جملہ ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں، جو اس وقت تقریبا ڈیڑھ لاکھ وائلز بنتی ہیں۔ اب ہمیں چین کا تعاون بھی حاصل ہے، جہاں سے جلد ہی ماہرین بھی پاکستان آنا شروع ہو جائیں گے، جن سے ہمیں اپنے منصوبوں میں مدد ملے گی۔‘‘

جنگلی حیات کے تحفظ اور سانپوں کی خرید و فروخت میں دلچسپی رکھنے والے اسلام آباد کے رہائشی علی خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سانپوں کے زہر پر اس وقت دنیا میں بڑی تحقیق ہو رہی ہے۔ سانپوں کے زہر میں شوگر مالیکیولز کا ایک گروپ ہوتا ہے، جو طبی کیمیائی حوالے سے کسی بھی مریض کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ زہر میں موجود سیالک ایسڈ (Sialic acid) اس کے اثر کو بڑھا دیتا ہے۔ اگر کوئی سانپ کسی کو کاٹ لے، تو دو گھنٹے کے اندر اندر اگر اینٹی وینم استعمال کر لیا جائے، تو مریض کو بچایا جا سکتا ہے۔‘‘

علی خان کے مطابق، ’’پاکستان میں نجی سطح پر سندھ میں سانپوں کے زہر سے تریاق بنانے پر کافی کام کیا جا رہا ہے۔ اکثر لوگ سانپ دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں حالانکہ اکثر سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔ اگر کسی جگہ پر سانپوں کی موجودگی کا خدشہ ہو، تو زمین پر پاؤں مارتے ہوئے چلنا بہتر ہوتا ہے۔ سانپ چونکہ اپنے ارد گرد بہت معمولی سے نقل و حرکت بھی محسوس کر لیتے ہیں، اس لیے کسی کو اپنی طرف آتا محسوس کر کے وہ خود ہی دور چلے جاتے ہیں۔‘‘

ماہرین حیوانات کے مطابق دنیا بھر میں سانپوں کی مجموعی طور پر 2800 اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے صرف 280 اقسام کے جانور زہریلے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت، جنوبی افریقہ، برازیل، میکسیکو، کوسٹاریکا اور آسڑیلیا کا شمار ان بڑے ممالک میں ہوتا ہے، جہاں سانپ کے زہر کے خلاف اینٹی وینم ادویات وسیع پیمانے پر تیار کی جاتی ہیں۔

DW.COM