پاکستان اور قطر کے مابین ایل این جی کی خریداری کی اہم ڈیل | حالات حاضرہ | DW | 10.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور قطر کے مابین ایل این جی کی خریداری کی اہم ڈیل

پاکستان اور خلیجی ریاست قطر کے درمیان قدرتی مائع گیس ایل این جی کی خریداری کا طویل المدت معاہدہ طے پا گیا ہے۔

Gasförderung in Katar

یہ معاہدہ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ قطر کے دوران دوحہ میں کیا گیا

یہ معاہدہ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ قطر کے دوران دوحہ میں کیا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم یہ دورہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد بن خلیفہ الثانی کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر مارشل سہیل امان بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

DW.COM

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس معاہدے کے تحت قطر پاکستان کو پونے چار ملین ٹن سالانہ ایل این جی فراہم کرے گا۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر گیس کے چئیرمین کے ساتھ ایل این جی معاہدے پر دستخطوں کے بعد سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ یہ معاہدہ بہت اہم ہے اور اس سے ایک سو ارب روپے کی بچت ہوگی۔

عباسی نے کہا کہ "قطر ایل این جی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ قطر سے درآمد کی جانے والی گیس سے ملکی توانائی کی ضروریات کا بیس فیصد پورا ہو گا اور یہ گیس کھاد فیکٹریوں، بجلی گھروں، سی این جی سٹیشنوں اور گھریلو صارفین کو فراہم کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت کے دور میں توانائی کا بحران حل کر لیا جائے گا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اور بعض ماہرین حکومت کے قطر سے ایل این جی کی خریداری کے معاہدے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق حکومت کے اس معاہدے کے نتیجے میں صارفین کو ایل این جی کی انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہوگی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے راہنما حکومت پر ایل این جی درآمد کے معاہدے کے ذریعے اپنے من پسند افراد کو نواز نے کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔ تاہم حکومتی عہدیدار ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے ’ایکسپریس ٹربیون‘ سے منسلک توانائی کے امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت تو یہ کہہ رہی ہے کہ اس معاہدے سے سستی ایل این جی ملے گی لیکن شاید یہ درست نہ ہو۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے شہباز رانا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس معاہدے کے تحت ایل این جی کی قیمت کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کے تناسب سے مقرر کیا گیا ہے، جو اس وقت تیس سے پینتیس ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہیں۔ اس حساب سے پاکستان کو ایل این جی کی قیمت پانچ ڈالر فی برٹش تھرمل یونٹ ادا کرنا پڑے گی لیکن اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو پھر یہ قیمت اس حساب سے دگنی یا تگنی بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

شہباز رانا نے کہا کہ اس وقت تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کے حساب سے اس معاہدے کی لاگت پندرہ ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل المدتی معاہدہ ہے اور اس میں حکومت پاکستان نے کافی بڑا رسک لیا ہے۔ شہباز رانا کے مطابق اگر حکومت بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ قطر کے ساتھ بات چیت کر کہ مائع گیس کی خریداری کے معاہدے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک نہ کراتی تو یہ ڈیل بہتر ہو سکتی تھی۔

Gasförderung in Katar 2006

پاکستان کو درپشں توانائی کے شدید بحران کی وجہ سے حکومت مختلف ذریعوں سے توانائی کے حصول کی کوشش کر رہی ہے

خیال رہے کہ پاکستان کو درپشں توانائی کے شدید بحران کی وجہ سے حکومت مختلف ذریعوں سے توانائی کے حصول کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ضمن میں قطر سے ایل این جی در آمد کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے بدھ کو دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد بن خلیفہ الثانی سے ملاقات کی۔

بیان کے مطابق اس ملاقات میں دوطرفہ امور کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دفاع، توانائی سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافے کے لیے بھی بات چیت کی گئی۔ سرکاری بیان کے مطابق قطر اور پاکستان کے درمیان عالمی تحقیق، ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ صحت کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

ملتے جلتے مندرجات